تحریہ امتیا زعاصی
سانحہ کوٹ لکھپت جیل جس میں ایک قیدی کی ہلاکت ہوئی اور چند قیدی زخمی ہوئے یہ واقعہ چند روز قبل سینٹرل جیل کو ٹ لکھپت میں پیش آیا۔جہاں بھی بہت سے لوگ رہتے ہوں وہاں پرلڑائی جھگڑا اور جرائم کا ہونا فطری بات ہے ۔جیلوں میں اس وقت یہ پوزیشن ہے کہ تقریبا تمام جیلوں چاہے وہ سینٹر ل جیل ہو یہ ضلعی تمام میں ضرورت سے زائد قیدی موجود ہیں۔یعنی اگر کسی جیل میں پندرہ سو کی گنجائش ہے تو اس میں سات ہزار قیدی رکھے گئے ہیں۔قیدیوں کے اتنے جھرمٹ میں لڑائی جھگڑے یا تشدد کے دیگر واقعات خارج ازامکان نہیں ہوتے۔سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں اگرچہ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واقعے کے بعد بعض افراد کو ملازمت سے معطل کیا ہے لیکن اصل ماجرہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جیلوں میں مینول پر پورے طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر جب جیل مینول یہ کہتا ہے کہ ایک قیدی اپنی بیرک سے کسی دوسر ی بیر ک میں نہیں جاسکتا لیکن پنجاب یا ملک کی کوئی بھی جیل دیکھیں تو قیدی ایک بیرک سے دوسری بیرک میں بڑے آرام سے جاتے ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں ہوتی کیونکہ جیل کے انچارج کو خوش کردیا جاتا ہے ۔انگریز نے جیل مینول ایسے ہی نہیں بنا یا اس کا مقصد یہ تھا کہ قیدی کسی دوسری بیریک میں جانے کی بجائے اپنی بیرک میں ہی رہ کر سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔پرانے وقتوں میں جیلوں کا جو نظریہ تھا اب وہ ختم ہوچکا ہے ۔جیلوں میں اب پی سی او لگ چکے ہیں یعنی کوئی بھی قیدی اگر کھانے پینے کے لیے کچھ باہر سے منگوانا چاہے تووہ باآسانی اسے دستیاب ہوتا ہے جبکہ پرانے وقتوں میں قیدیوں کو لنگر کے ذریعے پکا ہوا کھانا ہی کھانا ہوتا تھا۔جیلوںمیں اس وقت جیمرلگائے جانے کے باوجو د موبائل فون استعمال ہوتے ہیں ۔جیلوںمیں کھانے کے معیار میں بہتری آئی ہے اور آٹا بھی وہاں ہی قیدی پیستے ہیں جو دیسی گندم کا ہوتا ہے ۔
سانحہ کوٹ لکھپت جیسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں انگریز نے قیدیوں کی کیٹیگری بنائی ہوتی تھی اس میں بڑی عمر کے قیدی نوعمر قیدی اور درمیانی عمر کے قیدی شامل ہوتے تھے آج سے کوئی بیس سال پہلے جب کوئی ملزم جیل میں لایا جاتا تھا تو جیل افسر اس کا چہرہ دیکھتا تھا کہ اس پر دہاڑھی ہے کہ نہیں اور اگر اسکے چہرے پر دہاڑھی نہیں ہوتی اور وہ کم عمر ہوتا تو اسے کسی بھی صورت بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ نہیں رکھا جاتا تھا۔اجکل ایسے مسائل جنم لے رہے ہیں جن میں لڑائی جھگڑے اور دیگر پرتشدد واقعات پیش آرہے ہیں جن کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر جیل میں نوعمر قیدیوں کی وارڈ ہونے کے باوجود جب ایسے قیدیوں جن کی عمر کم ہوتی ہے انھیں جب بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے تو مسائل پید اہوتے ہیں ۔کوٹ لکھپت جیل میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ جس میں ایک قیدی ہلاک اور چند دیگر زخمی ہوئے ہیں یہ اخلاقی برائیوں کا شاخسانہ ہے جس میں پہلے ایک قیدی کی مرنے والے کے ساتھ دوستی تھی بعد میں کسی دوسرے کے ساتھ دوستی ہوگئی ۔
واقعے کی تحقیقات کے بعد لنگر خانے کے انچارج سمیت دیگر افراد کو ملازمت سے فوری طو ر پر معطل کردیا گیا ہے بلکہ اب ڈپٹی سپریڈنڈنٹ کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔میرے خیال میں لنگر خانے کا انچارج واقعے کا پوری طریقے سے ذمہ دار ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ جیلوں میں اخلاقی معاملات چل رہے ہیں اور وہاں بیرک کے انچارج یا لنگر خانے کے انچارج کے علم میں یہ بات نہ ہو۔واقعے کی جب باضابطہ تحقیقات ہونگی تو لنگر خانے کے انچارج کو ملازت سے برخاست کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے جس میں ایک قیدی کی ہلاکت ہوچکی ہے ۔ایسا کسی بھی طور ممکن نہیں کہ کسی جیل کی بیرک کے انچارج یا لنگرخانے کے انچارج کو کسی بھی اخلاقی معاملے کا علم نہ ہو کیونکہ انھوں نے بیرک میں کچھ قیدی دیگر قیدیوں پر نظر رکھنے کے لیے رکھے ہوتے ہیں جو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔حالیہ واقعے میں لنگرخانے کے انچارج کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ قیدیوں کے دو گروپوں کے بارے میں آگاہ کرتا جس سے جھگڑے کی صورتحال پیدا ہوئی ۔لنگر خانے کے انچارج کی غفلت کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا جو کہ محکمے کی بھی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی