روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو کو روس کے 2 دوست ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی مسئلے کے علاوہ کشیدگی کے دیگر پہلوئوں پر بھی تشویش ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ بات جمہوریہ کومی کے دارالحکومت سیکتیوکار سے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہی ۔ماریہ زخارووا سے سوال کیا گیا کہ مستقل ثالثی عدالت نے تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، تاہم بھارت نے عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے، روس اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور کیا ماسکو سمجھتا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی تمام فریقوں کو پابندی کرنی چاہیے؟اس ا سوال کا جواب دیتے ہوئے ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس کو اس آبی مسئلے کے حل نہ ہونے پر تشویش ہے، جس طرح ماسکو کو روس کے 2 دوست ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دیگر پہلوں پر بھی تشویش ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روس اس نوعیت کے تنازعات کو باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو اہم سمجھتا ہے، جس میں دونوں ممالک کے مفادات کو یکساں طور پر مدنظر رکھا جائے۔
ایک اور سوال کہ پاکستان نے 2026 سے 2027 تک شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے اور تنظیم کا آئندہ سربراہی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، روس پاکستان کی صدارت سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس عرصے کے دوران ماسکو کن شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے زیادہ امکانات دیکھتا ہے؟۔ماریہ زخارووا نے جواب دیا کہ پاکستان پہلی مرتبہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، یہ اہم اور ذمہ دارانہ ذمہ داری شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے، اسے گہرا کرنے اور عالمی سطح پر تنظیم کی حیثیت مضبوط بنانے پر مرکوز ہوتی ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ صدارت کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیادی دستاویزات پر عمل درآمد میں تسلسل برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، جن میں تنظیم کی 2035 تک کی ترقیاتی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ماریہ زخارووا نے کہا کہ تنظیم کی صدارت کرنے والا ہر ملک مشترکہ اہداف کے حصول کے عمل میں اپنا کردار اور اپنی ترجیحات بھی شامل کرتا ہے
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان جلد ہی 2026 سے 2027 تک سیاسی، سلامتی، اقتصادی اور ثقافتی و انسانی شعبوں میں مربوط اقدامات سے متعلق اپنا لائحہ عمل پیش کرے گا۔ماریہ زخارووا نے کہا کہ پاکستان سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کا تعین کرے گا۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر کو بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے رہنمائوں کی طرح پاکستان کی کامیاب صدارت کے لیے حمایت اور معاونت فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ روس شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی صدارت کے دوران موثر اور نتیجہ خیز مشترکہ کام کیلئے تیار ہے۔ماریہ زخارووا نے پاکستان کی کامیاب صدارت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کے لئے ہر طرح کی کامیابی کا خواہاں ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی