وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز(پی ایچ اے) قائم کرنے کی منظوری دے دی، جبکہ اداروں کیلئے 2820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی بھی منظوری دے دی گئی۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز کے قیام، شجرکاری، پارکوں کی بحالی اور شہروں کو سرسبز و خوبصورت بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے، اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 10 اضلاع میں پی ایچ اے پہلے ہی فعال ہیں، جبکہ مزید 11 اضلاع میں نئی اتھارٹیز قائم کردی گئی ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مزید 20 اضلاع میں پی ایچ اے کے قیام کیلئے جنوری 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں پنجاب کی ہر تحصیل میں بھی پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔وزیراعلی نے ہر تحصیل، شہر اور گاں کی سطح پر مرحلہ وار شجرکاری اور پھولدار پودے لگانے کے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر خالی جگہ پر درخت اور پھول اگائے جائیں، وہ پنجاب کے ہر شہر، قصبے اور گائوں کو درختوں اور پودوں سے سجا اور پھولوں سے مہکتا دیکھنا چاہتی ہیں۔مریم نواز شریف نے موسم کے مطابق پھولدار پودے لگانے کیلئے ماہانہ پلان مرتب کرنے کا حکم دیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں پی ایچ اے کے زیر انتظام ان ہاس نرسری قائم کی جائے گی
جہاں شجرکاری اور موسمی پھولوں کے لیے پودے تیار کرکے شہریوں کو کم قیمت پر فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس میں ہر ضلع میں مینجنگ ڈائریکٹر، ڈائریکٹر اور تکنیکی عملے کی بھرتیوں کی منظوری بھی دی گئی، وزیراعلی نے پی ایچ اے افسران کی کارکردگی جانچنے کیلئے کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز ) تشکیل دینے اور ہر ڈسٹرکٹ پی ایچ اے کا ریسورس پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں سی کیٹیگری کے تمام پارک بحال کردئیے گئے ہیں، جبکہ ہر پی ایچ اے کو شہری منظرنامے میں بہتری، پارکوں کی خوبصورتی اور گرین بیلٹس کی بحالی کے اہداف دئیے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ خیابانِ جناح میں بوگن ویلیا، عطا بخش روڈ پر بانس اور دیگر سڑکوں پر املتاس کے درخت لگائے گئے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں میری گولڈ کے تینوں رنگوں کی اقسام کے پھول بھی اگائے جارہے ہیں۔وزیراعلی نے پی ایچ اے فوڈ کورٹ کے ڈیزائن کی منظوری بھی دی، جبکہ اداروں کے عملے اور گاڑیوں کیلئے یکساں برانڈنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا، بریفنگ کے مطابق پی ایچ اے کے گھروں میں کام کرنے والے عملے کو دفاتر واپس بلانے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ شجرکاری نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے، لہذا درخت لگانا کارِ ثواب ہونے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا ئو کا ذریعہ بھی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی