i پاکستان

پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے دگنی ادویات تجویز کی جا رہی ہیں، تحقیقتازترین

September 14, 2026

پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے دگنی ادویات تجویز کئے جانے کا انکشاف ہواہے ۔یہ انکشاف ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں ہواہے جس کے مطابق ایک نسخے میں اوسطا 4.2 ادویات تجویز کی گئیں جب کہ عالمی ادارہ صحت کی حد 1.6 سے 1.8 ہے۔تحقیق کے مطابق پشاور کے ایک بڑے اسپتال میں فی نسخہ اوسطا 10.56 ادویات تجویز کی گئیں، پاکستان میں صرف 25 فیصد ادویات جنیرک نام سے تجویز کی جاتی ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمام ادویات جنیرک نام سے تجویز ہونی چاہئیں، پاکستان میں45 فیصد نسخوں میں اینٹی بائیوٹکس شامل ہیں جب کہ عالمی حد20سے26.8 فیصد ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہیکہ ملک میں 27 فیصد سے زائد نسخوں میں انجیکشن تجویز کئے گئے اور صرف72 فیصد تجویز کردہ ادویات قومی فہرستِ برائیضروری ادویات میں شامل تھیں۔پروفیسر شہزاد کا کہنا ہے کہ غیر ضروری ادویات کا استعمال بنیادی مراکز سے تدریسی اسپتالوں تک ملک بھر میں پایا گیا، مریض جلد صحت یابی کیلئے انجیکشن اور اینٹی بائیوٹکس کا مطالبہ کرتے ہیں۔شہزاد علی کے مطابق فارما کمپنیوں کی مارکیٹنگ جنیرک ادویات کے کم استعمال کی ایک وجہ ہے، ادویات تجویز کرنے کے رہنما اصول موجود ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا، غیر ضروری ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کا استعمال روکنے کے لئے کارروائی ضروری ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی