i پاکستان

پاکستان کی آبی سلامتی کے تحفظ کے لئے موثر سفارت کاری اور مربوط انتظام ناگزیر ہے،ماہرینتازترین

October 02, 2026

ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو آبی سلامتی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کیلئے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک میں آبی وسائل کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہوگا، پاکستان کے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی سے آگے بڑھتے ہوئے عالمی سطح پرموثر سفارت کاری، بین الاقوامی حمایت کے حصول، پانی کے ضیاع میں کمی اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ و تعاون ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز)آئی پی ایس (کے زیر اہتمام آبی حقوق اور آبی سلامتی کے تحفظ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ سیمینار میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سابق ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق سفیر شفقت کاکاخیل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر افصح قاضی، کومسیٹس میں آبی وسائل کے جامع انتظام سے متعلق قائم یونیسکو چیئر کی رکن ڈاکٹر سمیرا فہمی خان، چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمان، وائس چیئرمین سید ابرار حسین اور آئی پی ایس کی ریسرچ آفیسر فریال قاضی نے شرکت کی۔اپنے ابتدائی خطاب میں سید ابرار حسین نے سندھ طاس معاہدے کی تزویراتی، ماحولیاتی اور معاشی و سماجی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کا تاریخی، سفارتی اور پالیسی تناظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ شفقت کاکاخیل نے سندھ طاس معاہدے کو اپنی نوعیت کا جامع ترین آبی تقسیم کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک مثالی معاہدہ ہے۔

ان کے مطابق بھارت نے اپریل میں معاہدے کو التوا میں رکھنے کے اعلان سے بہت پہلے ہی اس میں نظرثانی کی کوششیں شروع کر دی تھیں اور معاہدے میں وضع کردہ طریق کار کی پاسداری سے اعراض کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے چند گھنٹوں کے اندر بھارت کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس اس مقف کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے ہی تشکیل پا رہا تھا۔شفقت کاکاخیل نے دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے پن بجلی کے منصوبوں کی تیز رفتار تعمیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرزِ عمل سے دریائے چناب کی وادی ڈیموں کے ایک بڑے سلسلے میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق بعض ڈیموں کے ڈیزائن اور بنیادی ڈھانچے میں ایسی خصوصیات شامل ہیں جو معاہدے کے ضمیموں میں درج دفعات اور تکنیکی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، جبکہ بھارت نے متعلقہ طریق کار پر بھی عمل نہیں کیا۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو بھارتی حکومت کے اس موقف کا تسلسل قرار دیا جس کے مطابق بھارت اس معاہدے کو غیر منصفانہ قرار دیتی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ بھارت نئے سندھ طاس معاہدے پر آزادانہ رضامندی سے دستخط کیے تھے اور ایک عرصے سے اس سے استفادہ کر رہا ہے۔ شفقت کاکاخیل نے محتاط اور متوازن ردعمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تعاون اور سفارت کاری کا راستہ جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پاکستان کی بین الاقوامی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ردعمل صرف دی ہیگ میں قانونی مقدمہ لڑنے تک محدود نہیں ہے۔ پاکستانی سفارتی مشنز عالمی سطح پر پاکستان کے مقف کو اجاگر کر رہے ہیں اور یہ واضح کر رہے ہیں کہ معاہدے کے تحت غیر منصفانہ طرزِ عمل پاکستان نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور عالمی بینک، جو معاہدے کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں شامل فریق رہے ہیں، معاہدے کی بحالی میں فعال کردار ادا کریں۔ڈاکٹر افصح قاضی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا اسے اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ نرم سفارت کاری کے ذریعے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بالواسطہ دبا پیدا کیا جا سکتا ہے اور سفارتی روابط اور عالمی توجہ رسمی قانونی کارروائیوں کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اندرونی آبی انتظام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بیرونی سطح پر پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کی کوششیں ضروری ہیں، وہیں ملک کو پانی کے ضیاع میں کمی اور دستیاب آبی وسائل کے بہتر انتظام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ڈاکٹر سمیرا فہمی خان نے ادارہ جاتی نقط نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کو مثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے مابین مربوط کوششیں اس امر کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کہ علمی معلومات اور شواہد پاکستان کو درپیش آبی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل ہوں۔سیمینار کے اختتام پر خالد رحمان نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان آبی سلامتی کا نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے سے پیدا ہونے والے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھارت کی سیاسی خیرسگالی کے بغیر مثر پیش رفت ممکن نہیں اور اس مسئلے کو اس پہلو سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی