ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ مشترکہ مکہ معاہدہ خالصتا دفاعی نوعیت کا ہے، اس میں جارحیت یا مداخلت کا کوئی عنصر نہیں، معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ ہوتا ہے تو معاہدے میں شامل ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی پر عمل کریں گے،بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ یہ خالصتا دہشت گردی ہے، چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق انتہائی سٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ اس میں مسابقت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، امریکہ، ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میرٹ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں،پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا حامی ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے، بھارت سے بات چیت برابری اور خود مختاری کے احترام پر ہوگی، بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو نتائج توقع سے زیادہ خطرناک ہوں گے، پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، افغانستان کی طالبان حکومت کے حوالے سے فوج کا بھی وہی موقف ہے جو سیاسی قیادت کا ہے۔ ان خیالات کااظہار ڈی جی آئی ایس پی آر نے عرب ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی میں کئی دہائیوں پر محیط سٹریٹیجک تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد حکومتی اور عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ عوامی روابط اور جذباتی و ثقافتی وابستگیوں پر ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان نیا دفاعی تعلق ایران کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن کو پیچیدہ بناتا ہے؟جس پر ترجمان پاکستان فوج کا جواب تھا، بالکل نہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فوجی اتحاد راتوں رات وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک میں پہلے سے موجود سٹریٹیجک تعلقات کو با ضابطہ شکل دی گئی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ معاہدے کا سادہ سا مطالعہ ہی یہ بتا دے گا کہ اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ معاہدے میں شامل ممالک کے دشمن ان ممالک پر حملے سے باز رہیں۔اس میں کوئی جارحانہ یا مداخلت پر مبنی عنصر شامل نہیں۔ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ ایک اور سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ مشترکہ مزاحمت اور تینوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دہائیوں پرانے تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ ہے، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس میں کوئی جارحانہ پہلو یا علاقائی توسیع پسندی کا ایجنڈا نہیں۔ایک اور سوال کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو گا؟،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دفاعی وعدوں سے متعلق آپریشنل تفصیلات کبھی عوامی سطح پر نہیں بتائی جاتیں۔انھوں نے کہا بہت سے ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے ہوتے ہیں لیکن کوئی ریاست ان کے نفاذ کی عملی تفصیلات ظاہر نہیں کرتی۔
یہ معاملات آپریشنل سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے دائرے میں آتے ہیں۔ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔ کیا یہ دفاعی معاہدہ ان تعلقات کی تکمیل کرتا ہے یا ان سے مسابقت رکھتا ہے؟،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ ان کی تکمیل کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا تعلق انتہائی سٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ اس میں مسابقت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معاہدے میں کہیں بھی اسے مسلم اتحاد قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد علاقائی استحکام ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے کوئی مخصوص کلب نہیں ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اتحاد کو وسعت دینا ہے یا نہیں، اور کیسے دینی ہے، اس کا فیصلہ تینوں ممالک کی قیادت کرے گی۔امکان موجود ہے کہ مستقبل میں ایسے شراکت دار بھی شامل ہوں جو امن، استحکام، عدم جارحیت اور اجتماعی مزاحمت کے اصولوں سے متفق ہوں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا اس معاملے میں پاکستان کی حیثیت ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کی ہے۔ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کا حامی ہے اور اسی لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پوچھا گیا کہ ثالثی کی کوششوں میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟انھوں نے جواب دیا کہ کئی دہائیوں پر محیط اور پیچیدہ تنازعات میں ثالث کا کردار غیر جانبدار اور معروضی رہنا ہوتا ہے، اس لیے پاکستان بطور ثالث جاری رابطوں یا ممکنہ پیش رفت پر تبصرہ نہیں کرے گا۔اس سوال پر کہ پاکستان کیا ایسا کر سکتا ہے
جو دوسرے ثالث نہیں کر سکے، ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ثالثوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی پائیدار اور پر امن حل۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کی قیادت کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میرٹ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔بلوچستان کی صورتحال پر سوال کے جواب میں انھوں نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ وہاں کوئی شورش جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے وہ شورش نہیں بلکہ دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔نھوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہیں ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی روابط اور معاشی مواقع پر بھی کام ہو رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اچھی حکمرانی، مواقع اور مسلسل توجہ ملنی چاہیے، جبکہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔افغانستان کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ ہو۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے حوالے سے فوج کا بھی وہی موقف ہے جو سیاسی قیادت کا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ متعدد شدت پسند تنظیمیں اب بھی افغانستان سے سرگرم ہیں اور یہ صرف پاکستان کا موقف نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔
ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہو جائے تو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کیلئے پاکستان کن اقدامات کو جائز سمجھتا ہے۔احمد شریف چوہدری نے جواب دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 51 دفاع کا حق دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کا پابند ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، چاہے خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ عسکری تنازع کے بارے میں سوال پر کہ پاکستان فوج نے اس سے کیا سیکھا؟لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب میں کہا کہ پہلا سبق یہ ہے کہ دو ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان فوجی تنازع ایک سٹریٹیجک غلطی ہے۔ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا نے یہ سبق سیکھ لیا ہے؟لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس کا جواب انڈیا کو دینا ہے، تاہم پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے یہ حقیقت مسلسل یاد دلاتا رہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان مساوی بنیادوں پر امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اگر فوجی جارحیت کے ذریعے علاقائی بالادستی کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔مستقبل میں جوہری تصادم کے خطرات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کو حملے سے باز رکھتی ہے، جبکہ سیاسی قیادت کا تحمل اور رابطے بھی کشیدگی روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوج سے فوج کے روابط کی بحالی کے امکانات موجود ہیں؟،
اس پر ترجمان پاک فوج نے جواب دیا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن کئی دہائیوں سے موثر طریقے سے کام کر رہی ہے، حتی کہ کشیدگی کے ادوار میں بھی۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے متعلق سوال پر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا ہے، تاہم کوئی بھی بات چیت مساوات، باہمی احترام اور مسائل کے مخلصانہ حل کی کوشش پر مبنی ہونی چاہیے۔ بھارت دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان فوجی صلاحیتوں میں انڈیا کی سرمایہ کاری سے آگاہ ہے،بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لئے بہت زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے تاہم پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ملک کو اپنی دفاعی استعداد پر مکمل اعتماد ہے۔ ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیاسی مقصد ملک کی سیاسی قیادت طے کرتی ہے، فوج اور ریاست کے الگ الگ اہداف نہیں ہیں، پاکستان کے مقاصد اور خواہشات سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان فوجی تصادم پاگل پن اور اسٹریٹجک حماقت ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا حامی ہے اور بھارت سے تنازع کو نیوکلیئر تصادم بننے سے روکنا پاکستان کا عزم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ اندرونی ناکامیوں کو بیرونی مسائل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی