لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزمان محسن اور عز ین نے خاتون سے زیادتی کے الزام سے انکار کردیا۔لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزمان محسن اور عزین نے پولیس کو دئیے گئے بیانات میں لڑکی سے زیادتی کے الزام سے انکار کردیا ہے۔ملزمان کے مطابق انہوں نے غیر ملکی لڑکی سے صرف رسمی گپ شپ کی، جبکہ لڑکی اپنی مرضی سے فلیٹ پر رات کو رکی تھی۔ملزمان نے بتایا کہ لڑکی اپنی دوستوں مسکان اور نمرہ کے ذریعے فلیٹ پر آئی تھی۔پولیس کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا احمد تنویر نے ڈیانا سے زیادتی کی؟ اس پر ملزمان نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ملزمان کے بیان کے مطابق رات کو سونے تک سب کچھ معمول کے مطابق اور طے شدہ پلان کے مطابق ہوا۔ملزمان نے بتایا کہ ہفتے کی صبح سویرے مسکان اور نمرہ فلیٹ سے چلی گئیں، جبکہ ڈیانا فلیٹ پر ہی سو گئی۔ملزمان کے مطابق صبح اٹھنے کے بعد ڈیانا نے شور مچانا شروع کردیا، جس پر وہ بوکھلا گئے۔ملزمان نے بتایا کہ ڈیانا کو خاموش کرانے کیلئے اسے ڈیفنس کے علاقے میں چھوڑ کر آئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں ڈی این اے رپورٹ اہم ہوگی، جس کے ذریعے ملزمان کے بیانات کی حقیقت سامنے آئے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی