لاہور ہائیکورٹ نے آبوا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے خلاف دائر دونوں آئینی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ لیز کی بنیاد پر قانونی ٹیکس سے بچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جسٹس خالد اسحاق نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت زرعی واجبات کے طور پر وصول کیا جائے گا۔عدالت نے آبوا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال کی جانب سے دائر پہلی درخواست، ڈبلیو پی نمبر 41665/2022، اور اس سے منسلک دوسری درخواست، ڈبلیو پی نمبر 65996/2025 کا فیصلہ کیا۔پہلی درخواست میں درخواست گزار نے 10 جون 2022 کے پراپرٹی ٹیکس ریکوری نوٹس کو چیلنج کیا تھا، جس کے ذریعے بقایاجات، موجودہ پراپرٹی ٹیکس اور ڈیفالٹ سرچارج کی وصولی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ وہ متنازعہ جائیداد کا مالک نہیں بلکہ لیز ہولڈر ہے اور لیز معاہدہ رجسٹرڈ بھی نہیں، اس لیے پراپرٹی ٹیکس کی ذمہ داری اصل مالک یعنی ایم ٹیکس لمیٹڈ پر عائد ہوتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ لیز معاہدے کے مطابق جائیداد ابتدائی طور پر 14 ستمبر 2017 سے 13 ستمبر 2050 تک 33 سال کیلئے لیز پر دی گئی تھی۔معاہدے میں لیز ختم ہونے کے بعد مزید 33 سال اور اس کے بعد بھی بار بار تجدید کا اختیار لیز ہولڈر کو دیا گیا تھا۔عدالت کے مطابق اس شق کی وجہ سے لیز میں مستقل نوعیت پیدا ہوتی ہے اور درخواست گزار کو محض غیر رجسٹرڈ معاہدے کی بنیاد پر ٹیکس کی ذمہ داری سے فرار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک سال سے زائد مدت کی لیز کی رجسٹریشن لازمی ہے، تاہم غیر رجسٹرڈ لیز کی خامی کو ٹیکس سے بچنیکیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ متنازعہ جائیداد کے مبینہ مالک ایم ٹیکس لمیٹڈ نے بھی اسی پراپرٹی کے ٹیکس سے متعلق پہلے آئینی درخواست دائر کی تھی، تاہم بعد میں وہ درخواست واپس لے لی گئی۔عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ایم ٹیکس لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو نے 2 اگست 2021 کو ایک تحریری یقین دہانی بھی جمع کرائی تھی جس میں پراپرٹی ٹیکس کی ذمہ داری تسلیم کی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ مالک کی جانب سے اپنی ذمہ داری تسلیم کیے جانے کے بعد درخواست گزار خود کو متاثرہ فریق قرار نہیں دے سکتا۔عدالت نے پنجاب اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 کی دفعہ 14 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی عمارت یا زمین پر عائد ٹیکس واجب الادا ہو اور بقایا جات بن جائیں تو مقررہ اتھارٹی کرایہ ادا کرنے والے شخص کو نوٹس جاری کر سکتی ہے۔اس نوٹس کے ذریعے مستقبل کے کرائے کی ادائیگی ٹیکس اتھارٹی کو کرنے کا تقاضا کیا جا سکتا ہے، جب تک ٹیکس کے بقایاجات ادا نہ ہوجائیں۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کا یہ مقف کہ وہ پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں، قانونی طور پر قابل قبول نہیں۔درخواست گزار نے یہ موقف بھی اختیار کیا تھا کہ جائیداد دیہی علاقے میں واقع ہے، اسلئے پنجاب اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 کے تحت اس پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے دیہی علاقے میں نجی میڈیکل کالج اور نجی ہسپتال قائم کیے، تاہم زرعی زمین کے استعمال کی قانونی تبدیلی اور متعلقہ فیس کی ادائیگی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔عدالت کے مطابق درخواست گزار نے بعد ازاں اس موقف کو واپس لے لیا۔دوسری درخواست میں 15 اکتوبر 2025 کے ریکوری نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے پنجاب اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 کی دفعہ 2 کی شق (e) میں ترمیم کی گئی، جس کے تحت lessee in perpetuity کی جگہ lessee in possession شامل کیا گیا۔عدالت کے مطابق قانونی تصور کے تحت قبضے میں موجود لیز ہولڈر کو مالک تصور کیا گیا ہے، لہذا درخواست گزار محض لیز ہولڈر ہونے کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ پہلی درخواست 2022 میں دائر کی گئی تھی اور درخواست گزار نے اپنی ذمہ داری پر عبوری ریلیف حاصل کیا تھا۔عدالت کے مطابق اگر حتمی فیصلہ عبوری حکم کے برعکس ہو تو فریقین کو اس پوزیشن میں واپس لایا جا سکتا ہے جس میں وہ عدالت کی مداخلت نہ ہونے کی صورت میں ہوتے۔اس لیے درخواست گزار پر پراپرٹی ٹیکس کی ذمہ داری اس عرصے سے بھی عائد ہوگی جس دوران عبوری حکم موجود تھا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار ناانصافی یا قانون کی واضح دفعات کو ناکام بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے دونوں آئینی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔فیصلے کے مطابق جرمانہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 81 کے تحت زرعی واجبات کے طور پر وصول کیا جائے گا۔آبوا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال نے 2017 کے لیز معاہدے کی بنیاد پر یہ مقف اختیار کیا تھا کہ وہ جائیداد کا مالک نہیں بلکہ لیز ہولڈر ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے پراپرٹی ٹیکس کے بقایاجات کی وصولی کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے 19 نومبر 2025 کو سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جو 24 دسمبر 2025 کو دستخط کیا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی