امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی لاک ڈائون کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈائو ن کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرکے مسئلہ حل کیا جائے، پٹرولیم لیوی کا حاتمہ چاہیے خیرات نہیں، حکومت ہمارے مطالبات کو تسلیم کرے، قوم عذاب میں مبتلا ہے اور معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔حافظ نعیم کا کہنا تھا کہحکومت سے مذاکرات کا ایک اور دور ہوراہے ،حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرنے پر رقم کہاں سے آئے گی، اس کا سوال کرتی ہے، ہم حکومت کو بار بار بتا چکے ہیں کہ رقم کہاں سے پوری کی جاسکتی ہے، لیکن حکومت کے پاس ہمارے موقف کے جواب میں کوئی دلیل نہیں۔ حکومت نے عوام کو لائنوں میں لگانے کا نظام بنا دیا ہے، 1567 ارب روپے لیوی جمع کرکے 25 ارب روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے، پٹرولیم لیوی کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا طریقہ ختم کیا جائے۔اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مذاکرات ختم کردیں گے، مذاکرات ختم ہوئے تو پھر سڑکوں پر فیصلے ہوں گے۔ اسلام آباد مارچ کے بعد حکومت کو ہماری جدوجہد کا اندازہ ہوگیا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور دیگر شعبے ڈیزل پر چلتے ہیں، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کی گئی؟
انہوں نے کہا کہ دکانداروں اور تاجروں کو دبائو میں لانے کا نظام قابل قبول نہیں، پولیس کو دکانیں بند کرانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کی گئی؟ ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور دیگر شعبے ڈیزل پر چلتے ہیں، پٹرولیم لیوی کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا طریقہ ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجوایشن کی تقریب میں لندن گئیں ، طیارے کے استعمال کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ریکارڈ قوم کے سامنے لایا جائے،کس سے پوچھ کر یہ جہاز خریدا گیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب بھی شریف خاندان اقتدار میں آتا ہے ، کسان کا حال برا ہو جاتا ہے۔ اور جاگیردار پنپتے رہتے ہیں ، ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا۔حافظ نعیم نے کہا کہ سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وزرا اور سرکاری افسران کی گاڑیاں 1300 سی سی تک محدود کی جائیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سود کی شرح کم کرنے کے وعدے پر حکومت عملدرآمد کرے، سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزرا اور سرکاری افسران کی گاڑیاں 1300 سی سی تک محدود کی جائیں۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ شریف خاندان اقتدار میں آئے تو کسان تباہ حالی کا شکار ہوتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی