قومی اسمبلی کا سارجنٹ ایٹ آرمز کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث نکلا ، جس پر انہیں چارج شیٹ کر دیا گیا ۔میڈیارپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے سارجنٹ ایٹ آرمز اشفاق اشرف کے خلاف کروڑوں روپے کی مالی بدعنوانی اور شدید مس کنڈکٹ کے الزامات کے تحت باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے معاملے پر کسی بھی قسم کی سفارش یا دبائو قبول کرنے سے واضح انکار کر دیا ۔ذرائع نے بتایا کہ سارجنٹ ایٹ آرمز اشفاق اشرف کے خلاف 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں ان پر مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ملزم اشفاق اشرف نے محمد عرفان ناصر نامی شہری سے سرمایہ کاری کے نام پر 5 کروڑ روپے وصول کئے ۔فیڈرل گورنمنٹ ہائو سنگ اتھارٹی کے 3 فلیٹس کی رجسٹریشن کی مد میں 39 لاکھ روپے لئے گئے
جبکہ اصل رجسٹریشن فیس صرف 1 لاکھ روپے تھی جبکہ ملزم 39 لاکھ روپے کا کوئی دستاویزی ثبوت یا رسید پیش کرنے میں ناکام رہا۔چارج شیٹ کے مطابق اشفاق اشرف نے مختلف مواقع پر عرفان ناصر سے 19 لاکھ روپے بلاجواز قرض کی مد میں بھی حاصل کیے۔معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری حسین رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کر کے 7 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ مرتب کر کے پیش کریں۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری رضوان اللہ کو محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا ہے، اور تمام متعلقہ چارج شیٹ انکوائری افسر کے سپرد کر دی گئی ہے۔اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے غیر جانبدارانہ اور سخت کارروائی کے عزم کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں شفاف تحقیقات کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی