i پاکستان

یونان میں داخل 40 غیر قانونی تارکین وطن ڈی پورٹ ہوکر اسلام آباد پہنچ گئےتازترین

October 10, 2026

یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونیوالے 40 پاکستانی شہر ی ملک بدر ی کے بعد خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے ، وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث سہولت کاروں کی نشاندہی کیلئے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔حکام کے مطابق یونان سے ملک بدر کئے گئے 40 پاکستانی شہری خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچے ، جہاں امیگریشن حکام نے ان کے کوائف اور مقدمات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق بیشتر پاکستانی قانونی طریقے سے ہوائی سفر کے ذریعے ملک سے روانہ ہوئے تھے، تاہم بعد میں غیرقانونی راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران گرفتار کرلئے گئے۔حکام کے مطابق ملک بدر کئے گئے پاکستانی شہریوں کا تعلق منڈی بہائو الدین، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے ہے، جبکہ ایک شہری اسلام آباد کا رہائشی ہے۔ ان افراد نے مبینہ طور پر لیبیا کے راستے غیرقانونی طور پر یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد انہیں مختلف حراستی مراکز میں رکھا گیا۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آمد کے بعد ایف آئی اے کے امیگریشن حکام نے ہر شہری کے کیس کا الگ الگ جائزہ لیا۔ اب ان افراد سے متعلقہ علاقوں میں ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکلز تحقیقات کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے مبینہ سہولت کاروں کی نشاندہی کی جائے گی اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرونِ ملک سفر کیلئے مستند سفری دستاویزات حاصل کریں اور قانونی طریقہ کار اختیار کریں۔ ایف آئی اے کے مطابق ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن جانچ سخت کردی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس پر سفری دستاویزات کی پیشگی تصدیق کے لئے کائونٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں مسافر روانگی سے پہلے اپنے کاغذات کی تصدیق کراسکتے ہیں۔یونانی پولیس کے ایک الگ اعلامیے کے مطابق یونان سے 40 پاکستانیوں اور 10 جارجیائی شہریوں کو خصوصی چارٹر پرواز کے ذریعے ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا گیا۔ یہ مشترکہ کارروائی یونانی حکام نے یورپی سرحدی و ساحلی محافظ ادارے فرونٹیکس کی مالی معاونت اور رابطہ کاری سے کی، جبکہ قبرص نے بھی اس میں حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں کے علاوہ طبی عملہ، ترجمان اور دیگر متعلقہ نمائندے بھی موجود تھے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی