پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر عون عباس بپی نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے، حکومت کا پہلا دن سے رویہ بہتر نہیں تھا، ہر کسی کو نظر آ رہا تھا کہ حکومت چاہتی ہے ہم لانگ مارچ کریں۔ ہم میں تو سب کو برائیاں نظر آ جاتی ہیں لیکن کسی نے حکومت سے نہیں پوچھا کہ ملاقاتیں کیوں نہیں کرائی جا رہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے عمران خان کی تینوں بہنوں کو 30 روز کے لئے حراست میں لے لیا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہمارے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ عمران خان سے کسی کو بھی ملاقات نہیں کرنے دے رہے۔ ہم کیوں لانگ مارچ نہ کریں۔سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ دہشتگردی صرف خیبر پختونخوا میں نہیں بلوچستان میں بھی ہے۔ اور بلوچستان حکومت وفاق کی اتحادی ہے۔ یہ مسئلہ صرف خیبر پختونخوا کے ساتھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں لانگ مارچ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف عمران خان کی رہائی نہیں ہے ان کے مقدمات تو چلائیں۔ تمام مقدمات کی سماعتیں روکی ہوئی ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے کسی کو کچھ نہیں معلوم جبکہ 10 ماہ میں ایک دفعہ ملاقات کو کافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ بہت موٹی چمڑی کا ہے وہ ان سے اس طرح نہیں ٹوٹ سکے گا۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود اچکزئی بہت پرانے سیاستدان ہیں اور جس حکومت کو ہم مانتے ہی نہیں تو ان کے دفاتر میں جا کر کیوں ملاقات کی جائے۔ پارلیمنٹ میں کئی ایسے کمرے ہیں جہاں ملاقات کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے ہماری کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت سمجھا جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی