i پاکستان

غیر ضروری درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کا اظہاربرہمی، ایک لاکھ روپے جرمانہتازترین

September 16, 2026

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے غیر ضروری اور بے بنیاد درخواست دائر کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا، عدالت نے قرار دیا کہ جرمانہ جمع کرانے کے بعد ہی کیس کی سماعت کی جائے گی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ پہلے ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کروائیں، پھر آپ کا کیس سنوں گی۔ چیف جسٹس نے شہری اشبا کامران کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ یہاں توہین عدالت میں آئے ہیں، درخواست کہاں ہے جس پر حکم جاری ہوا؟ عدالت نے درخواست دائر کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیس دائر کرتے وقت تمام چیزوں کو مدنظر رکھ کر درخواست دائر کی جاتی ہے

عدالت نے غیر ضروری درخواست دائر کرنے پر درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ دے چکی ہے، تاہم اس فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں تشہیر کے لیے قانون سازی کی گئی۔درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ میاں نواز شریف سرکاری عہدے پر فائز نہ ہونے کے باوجود مختلف منصوبوں پر ان کی تصاویر لگائی جا رہی ہیں، جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود فنڈز جاری کر رہے ہیں۔درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہذا عدالت چیف سیکرٹری، وزیر اعلی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔عدالت نے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرمانہ جمع کرانے کے بعد ہی کیس کی سماعت کی جائے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی