وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چودھری سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران عالمی و علاقائی صورتحال اور امن مشنز کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ لڑ رہا ہے، افغانستان میں اس وقت 25 دہشتگرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں، جو دنیا کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عالمی برادری کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اپنا بھر پور کردار جاری رکھے گا، پاکستانی پولیس کے افسران اور اہلکار اقوام متحدہ پولیس میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، پاکستان نے امن مشنز میں 181 جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اقوام متحدہ کے امن مشنز میں شرکت ہمیشہ نمایاں رہی ہے، دنیا کے امن کیلئے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ ملاقات کے اختتام پر وزیر داخلہ نے قدرتی آفات کے دوران پاکستان کی بھرپور مدد اور معاونت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں سپیشل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور وزارتِ داخلہ کے دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔ دریں اثنااقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا پاکستان کا سرکاری دورہ مکمل ہوگیا، انہوںن ے 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان میں قیام کے دوران اعلی سیاسی و عسکری قیادت اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق انتونیو گوتریس نے 6 اکتوبر کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی، اس موقع پر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، کثیرالجہتی نظام اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔نائب وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل پر زور دیا، انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی فیصلے سے بھی آگاہ کیا اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت و ریاست کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔انتونیو گوتریس نے 6 اکتوبر کو صدر پاکستان سے بھی ملاقات کی جہاں صدر آصف علی زرداری نے عالمی امن اور ترقی کے لیے خدمات کے اعتراف میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو نشانِ امتیاز عطا کیا۔7 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور علاقائی و عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے لئے پاکستان کی دیرینہ خدمات، خصوصا امن مشنز میں نمایاں کردار اور مذاکرات، ثالثی اور عالمی تعاون کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کیا، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں بریفنگ میں شرکت کی، جہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور قبل از وقت انتباہ کے نظام میں پاکستان کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ 7 اکتوبر کو انتونیو گوتریس نے فارن سروس اکیڈمی میں بدلتی دنیا میں کثیرالجہتی نظام کا استحکام، جغرافیائی سیاست اور اقوام متحدہ کا کردار کے موضوع پر خصوصی گفتگو میں بطور مہمان مقرر شرکت کی، اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی سخاوت، ثابت قدمی اور یکجہتی کو سراہا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے سے پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کے اعادے اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کا اہم موقع ملا، جبکہ کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے لیے پاکستان کے عزم کی بھی توثیق ہوئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی