i پاکستان

چین کے خلائی اسٹیشن پر تعیناتی، دو پاکستانی پائلٹس کی تربیت آخری مراحل میں داخلتازترین

September 28, 2026

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون کی نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، کیونکہ چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلا باز کے طور پر کسی ایک پاکستانی کے انتخاب کا وقت قریب آ گیا ہے۔پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے چینی زبان سیکھنے سمیت سخت اور جامع تربیت حاصل کر رہے ہیں۔یہ خلائی مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں طے پانے والے تعاون کا حصہ ہے۔پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی خلا باز کے نام کا فیصلہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔پاکستان کے لئے یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ اس کا کوئی شہری خلا میں پرواز کرے گا۔منتخب ہونے والا پائلٹ پاکستان واپس آئے بغیر براہِ راست چین سے خلائی مشن پر روانہ ہو گا اور زمین پر واپسی کے بعد صحت یابی کے عمل سے گزر کر وطن لوٹے گا۔سپارکو کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پائلٹوں اور سائنس دانوں کے بڑے پول میں سے 42 فائنلسٹس منتخب کیے گئے، جن کا طبی معائنہ اور نفسیاتی ٹیسٹ لیا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ سائنس دانوں میں تیز رفتار پرواز اور شدید جسمانی دبا برادشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، اس لئے فائٹر پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔

خلا میں جانے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا، جس کا بنیادی کام خلائی جہاز چلانے کے بجائے پاکستان کے سائنسی تجربات کو سرانجام دینا ہو گا۔کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں کی جانب سے بھیجی گئی 300 سے زائد تجاویز میں سے چینی اداروں نے چار بائیو ٹیکنالوجی تجربات کا انتخاب کیا ہے، جو غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔عزیر انصاری نے کہا کہ یہ ہمارے سائنس دانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا انتہائی نایاب موقع ہے، جہاں پاکستانی ٹیکنالوجی کو عالمی پلیٹ فارم پر جانچا جا رہا ہے۔اگرچہ پاکستان کا اپنا کوئی خلائی جہاز یا راکٹ نہیں ہے اور یہ مشن مکمل طور پر چینی ٹیکنالوجی، زبان اور رہنمائی پر منحصر ہے، تا ہم یہ شراکت داری انتہائی وسیع ہے۔چین اور پاکستان کا یہ تعاون خلائی اسٹیشن تک ہی محدود نہیں بلکہ 2028 کے قریب چین کے چانگ ای ایٹ قمری مشن پر ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند پر بھیجا جائے گا۔چاند کی سطح پر بھیجا جانے والا یہ روور خودکار نظام اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے راستے کی رکاوٹیں تلاش کرے گا اور اپنے راستے کا تعاقب کرے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی