سابق صدر عارف علوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عارف علوی نے کہا کہ جس صوبے کے دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا، اسے اسلام آباد کی غیر نمائندہ اور جعلی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو حاصل تھا۔سابق صدر نے دعوی کیا کہ تمام اطلاعات کے مطابق اس بحران کی واحد وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے پیغام کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ذاتی عناد ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
عارف علوی نے ملک میں سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔انھوں نے بلوچستان اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی اب خیبر پختونخوا تک پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔سابق صدر نے کہا کہ عمران خان تشدد کے خلاف ہیں اور ان کی جماعت ہر صورت آئینی اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ انھوں نے حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان اور ان کے حامی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی