i پاکستان

اے آئی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے، شفقت علی خانتازترین

September 28, 2026

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔سفیرپاکستان نے ابوظہبی میں 26 ستمبر سے یکم اکتوبر 2026 تک منعقد ہ جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف پر اقوام متحدہ کی 15ویں کانگریس' میں پاکستان کا قومی بیان پیش کیا۔ انہوں نے کانگریس کی میزبانی کرنے پر متحدہ عرب امارات کو مبارکباد دی اور وہاں کی پرتپاک مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کو سراہا۔جرائم کی بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے، سفیر خان نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی و اقتصادی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت (اے آئی )کی ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی ایس) کیلئے نئے سرے سے عزم کا اعادہ کیا اور پائیدار ترقی اور قانون کی حکمرانی کے باہمی معاون تعلق کو اجاگر کیا۔پاکستان نے مضبوط بین الاقوامی تعاون، قومی سطح پر صلاحیت سازی میں اضافے، اور ترقی پذیر ممالک کیلئے بامقصد تکنیکی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی سفیر نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی محفوظ، مامون اور ذمہ دارانہ ترقی اور استعمال پر بھی زور دیا۔بین الاقوامی منظم جرائم اور منشیات کی عالمی لعنت کے خلاف لڑنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے منشیات کے خلاف پاکستان کی دیرینہ کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں منشیات کی بڑی مقدار کی برآمدگی اور ملک کا پوست کی کاشت سے پاک (poppy-free) ہونا شامل ہے۔

انہوں نے افغانستان میں پوست کی کاشت اور مصنوعی منشیات کی پیداوار میں ممکنہ اضافے، نیز منشیات اور دہشت گردی کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالیاتی بہائو کے خلاف سخت بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا، جس میں اثاثوں کی موثر بازیابی اور مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔سفیر شفقت علی خان نے انسانی سمگلنگ اور تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حمل (سمگلنگ) کے خلاف لڑنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور نشاندہی کی کہ نقل مکانی کے محفوظ، باقاعدہ اور کم خرچ راستے بھی ان چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت (زینو فوبیا) کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، سفیر نے نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ کرنے، اسلامو فوبیا کا شکار افراد کے لئے قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے، اور باہمی افہام و تفہیم اور احترام کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کی 'کرائم کانگریس' جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے حوالے سے اقوام متحدہ کا مرکزی عالمی فورم ہے، جو ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتا ہے اور جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ممالک اور متعلقہ فریقین کو یکجا کرتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی