i بین اقوامی

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی یمن کے صوبے الضالع میں محدود فضائی کارروائیوں کی تصدیقتازترین

January 07, 2026

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے صوبے الضالع میں محدود فضائی کارروائیوں اور علیحدگی پسند فورسز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کردی۔عرب میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اپنے بیان میں کہا کہ سربراہ سدرن ٹریڈیشنل کونسل عیدروس الزبیدی طے شدہ پرواز پر ریاض آنے کے بجائے نامعلوم مقام پر فرار ہوگئے، الزبیدی کو منگل و بدھ کی درمیانی رات عدن سے ریاض روانہ ہونا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ الزبیدی کو یمنی حکومت اور جنوبی علیحدگی پسندوں کے درمیان مذاکرات میں شرکت کرنا تھی، قانونی حکومت اور اتحاد کو معلومات ملیں کہ الزبیدی نے ایک بڑی فوج کو متحرک کیا ہے۔سعودی اتحاد کے بیان میں کہا گیا کہ الزبیدی نے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سمیت ایک بڑی فوجی قوت الضالع میں جمع کرلی تھی، صبح 4 بجے پیشگی فضائی حملے کیے تاکہ تصادم کا پھیلا روکا جاسکے۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا بیان میں مزید کہنا ہے کہ الزبیدی ریاض کے لیے طیارے پر سوار نہیں ہوئے ۔ادھر الزبیدی کے فرار اور ان کے خلاف کارروائی کے بعد یمن میں حکومت اور علیحدگی پسند ایس ٹی سی کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

یمن کی سعودی حمایت یافتہ اتحادی حکومت نے دعوی کیا ہے جنوبی عبوری کونسل ((یس ٹی سی) کے رہنما ایداروس الزبیدی سعودی عرب جانے والے طیارے میں سوار ہونے کے بجائے نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔ الزبیدی کو بدھ کو سعودی عرب جانے کے لیے طیارے میں سوار ہونا تھا، جہاں انہیں جنوبی یمن کے مسئلے پر ریاض کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی۔یمن کی اتحادی حکومت کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، طیارہ ایس ٹی سی کے کئی سینئر رہنمائو ں کو لے کر مقررہ وقت سے تین گھنٹے تاخیر کے بعد روانہ ہوا، مگر الزبیدی اس میں موجود نہیں تھے اور ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔المالکی نے کہا کہ اس دوران یہ اطلاعات ملی ہیں کہ الزبیدی بڑی تعداد میں فوجی طاقتوں کو متحرک کر رہے ہیں، انہوں نے ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں سے مسلح گروپوں کو تیار ہونے کے لیے ہدایات بھی دی ہیں۔اس پیش رفت کے بعد سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل نے الزبیدی کو رکنیت سے معطل کرکے ان کا معاملہ پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا ۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق، کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے الزبیدی پر الزام لگایا کہ انہوں نے مسلح بغاوت کی قیادت کی، آئینی حکام پر حملے کروائے اور جنوبی یمن کے شہریوں پر مظالم کیے ۔اتحادی حکومت نے الزبیدی کی فوجی نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد جنوبی صوبے الضالع میں محدود ہوائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مقامی ذرائع کے مطابق صوبے میں 15 سے زائد حملے کیے گئے، جو الزبیدی کی جائے پیدائش بھی ہے۔الزبیدی کے فرار اور ان کے خلاف کارروائی کے بعد یمن میں حکومت اور علیحدگی پسند ایس ٹی سی کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی اتحادی حکومت نے اسے سرکاری اور قانونی کارروائی کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب یمن میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل ( ایس ٹی سی) نے سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایس ٹی سی کا وفد عیدروس الزبیدی کی قیادت میں سعودی عرب میں منعقد ہونے والے امن فورم میں شرکت کرے گا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حمایت یافتہ افواج نے یمن کے جنوبی علاقے حضرموت اور المہرہ میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔ یمنی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج، یمنی علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی سے حضرموت اور المہرہ کے علاقے واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایس ٹی سی کے جنگجو حضرموت صوبے کے دارالحکومت اور مشرقی بندرگاہ المکلہ سے واپس جا چکے ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے سعودی اتحاد کی بمباری میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔الجزیرہ کے مطابق یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت، صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے دوران سعودی حمایت یافتہ ہوم لینڈ شیلڈ فورسز تمام سیکیورٹی پوزیشنز دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ یمنی حکومت نے سعودی عرب سے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی درخواست کی تھی، جسے ایس ٹی سی نے خوش آئند قرار دیا، تاہم مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں اتوار تک کم از کم 80 جنگجو ہلاک، 152 زخمی اور 130 گرفتار ہو چکے تھے۔

یہ جھڑپیں دو روز قبل حضرموت میں ایس ٹی سی کی جانب سے سعودی سرحد کے قریب بمباری کے الزامات کے بعد شروع ہوئیں، جس میں ایس ٹی سی کے مطابق سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے۔ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے المکلا کے مغرب میں واقع برشید کے مقام پر ایس ٹی سی کے کیمپ پر شدید فضائی حملے کیے۔ایس ٹی سی نے اسی دوران آزاد جنوبی ریاست کے دو سالہ عبوری دور کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ مذاکرات نہ ہونے یا جنوبی یمن پر دوبارہ حملے کی صورت میں آزادی کا اعلان کیا جائے گا۔پی ایل سی سے تعلق رکھنے والے حضرموت کے گورنر سلیم الخنبشی کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی جنگ کا اعلان نہیں بلکہ پرامن اور منظم طریقے سے اپنے علاقے واپس لینے کی کوشش ہے۔پی ایل سی نے علیحدگی پسند گروہ پر شہریوں اور مسافروں کو دارالحکومت عدن میں داخل ہونے سے روکنے کا الزام بھی عائد کیا اور اس اقدام کو آئین اور ریاض معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ یمن کی حالیہ کشیدگی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر براہِ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔سعودی عرب میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں اس کشیدگی میں کمی کا امکان متوقع ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی