وینزویلا کی معروف اپوزیشن لیڈر اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے کہا ہے کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو اپنے وطن وینزویلا واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے یہ بیان ریاستہائے متحدہ میں ہونے والی حالیہ فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد دیا۔ ماچادو نے امریکی میڈیا فوکس نیوز سے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس وقت فیصلہ کر رہی ہیں کہ وہ کس وقت اور کہاں سب سے موثر طریقے سے وینزویلا کی جمہوری قوت کا حصہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے وطن واپسی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وینزویلا کے عوام کیلئے موثر کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ریاستہائے متحدہ کی فوجی کارروائی کے ذریعے گرفتار کیے جانے کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ مادورو کی گرفتاری کے بعد ڈیلسی روڈریگز نے بطور عارضی صدر اقتدار سنبھالا ہے، جسے ماچادو نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ماچادو نے اکتوبر 2025 میں ناروے میں نوبل امن انعام وصول کرنے کے بعد وینزویلا واپس نہیں آئی تھیں۔
وہ پہلے 6 ماہ تک چھپ کر رہی تھیں کیونکہ انہیں گرفتاری کا خدشہ تھا۔ ناروے کے بعد وہ طبی علاج کے لیے کسی خفیہ مقام پر گئی تھیں، اور اس کے بعد سے ان کی موجودگی کا ٹھیک پتہ نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماچادو کے ممکنہ قیادت کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ وینزویلا میں اس قدر ضروری عزت اور حمایت نہیں رکھتیں کہ وہ ملک کی قیادت کرسکیں۔ اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ نے عارضی صدر ڈیلسی روڈریگز کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ ماچادو نے روڈریگز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ماچادو نے کہا ہے کہ وہ جمہوری انتقال اور آزاد انتخابات کی خواہاں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان کی جماعت آزاد و منصفانہ انتخابات میں اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ انہوں نے وینزویلا کو ایک آزادم ملک اور توانائی کے شعبے میں مضبوط ملک بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی