i بین اقوامی

نئے سال میں پرانے وائرس نئی شکل میں حملہ آور ہوں گے، عالمی ماہرینِ صحت کا انتباہتازترین

January 09, 2026

عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ نئے سال میں آنے والے مہینوں میں دنیا کو جن بڑے صحت کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، وہ کسی بالکل نئے وائرس کے بجائے پرانے وائرسوں کی زیادہ خطرناک اور بدلی ہوئی اقسام سے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، عالمی سطح پر سفر میں اضافہ اور انسانوں و جانوروں کے درمیان بڑھتا ہوا قریبی رابطہ ان وائرسوں کے دوبارہ ابھرنے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے وائرس کو نئی شکل اختیار کرنے اور تیزی سے پھیلنے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت اچانک وباں کے خطرے سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دوچار ہے، جبکہ کئی ممالک میں بیماریوں کی نگرانی، تشخیص اور ہنگامی ردِعمل کے نظام اب بھی کمزور ہیں۔ماہرین کی ترجیحی فہرست میں انفلوئنزا اے وائرس بدستور سرفہرست ہے، کیونکہ اس میں تیزی سے جینیاتی تبدیلی کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہ مختلف انواع کو متاثر کر سکتا ہے۔ 2009 کی سوائن فلو وبا کی مثال دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

خصوصی تشویش برڈ فلو کی بعض اقسام کے حوالے سے ظاہر کی جا رہی ہے، کیونکہ حالیہ تحقیقات میں اس کے پرندوں سے ممالیہ جانوروں اور بعض ممالک میں گائے تک منتقل ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ وائرس انسانوں میں مثر انداز میں منتقل ہونے کے قابل ہو گیا تو ایک نئی عالمی وبا کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ موجودہ موسمی ویکسینز اس کے خلاف مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔ایم پوکس وائرس، جسے پہلے منکی پاکس کہا جاتا تھا، اب افریقہ کے محدود علاقوں تک نہیں رہا۔ 2022 میں اس کے عالمی پھیلا کے بعد یہ وائرس کئی ممالک میں مستقل طور پر موجود ہے اور انسان سے انسان میں منتقلی کے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔اگرچہ مجموعی طور پر کیسز میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم بعض خطوں میں اس کی زیادہ شدید اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ بغیر کسی سفری پس منظر کے نئے کیسز کا ظاہر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ 2026 میں اس وائرس کی نئی لہریں جنم لے سکتی ہیں۔

کم معروف لیکن تیزی سے پھیلنے والا اوروپوشی وائرس بھی عالمی ماہرین کی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ یہ وائرس مچھروں اور دیگر چھوٹے حشرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔عام طور پر اس کی علامات بخار، سر درد اور جسمانی درد تک محدود رہتی ہیں، لیکن گزشتہ برسوں میں اس کا پھیلا لاطینی امریکا اور کیریبین کے کئی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وائرس کو نئے خطوں میں پھیلنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ماہرین نے 2026 میں چند دیگر بیماریوں پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن کے مطابق عالمی اداروں اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ وباں سے نمٹنے کے لیے بروقت تیاری، مضبوط ویکسینیشن پروگرام اور جدید نگرانی و انتباہی نظام ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کی جڑی ہوئی دنیا میں صحت کا تحفظ کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ عالمی فرض ہے، کیونکہ وائرس بھی اب اتنی ہی تیزی سے سرحدیں عبور کرتے ہیں جتنی تیزی سے انسان۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی