کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن کے گرے ننز کمیونٹی اسپتال میں 44 سالہ بھارتی نژاد شخص پرشانت سری کمار کی موت کے بعد کینیڈین ہیلتھ سسٹم شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پرشانت سینے کے شدید درد کے باوجود 8 گھنٹے سے زائد وقت تک طبی امداد کے انتظار میں رہا اور مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال کے عملے نے شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، ایک ای سی جی ٹیسٹ کیا گیا جس میں فوری خطرہ ظاہر نہیں ہوا جس کے بعد علاج میں مزید تاخیر کی گئی۔پرشانت کی اہلیہ نیہاریکا سری کمار کی جانب سے بھی اسپتال پر مبینہ غفلت کا الزام لگایا ہے۔
اس واقعے پر اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کینیڈا کے صحت کے نظام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے لکھا کہ جب حکومت طبی سہولتیں دیتی ہے تو ان کی حالت امریکی ڈی ایم وی جیسی ہو جاتی ہے، جسے اکثر سست اور غیر موثر قرار دیا جاتا ہے۔دوسری جانب کینیڈا میں بھارتی نژاد شخص کی موت پر امریکی انفلوئنسر کی جانب سے تمسخر اڑایا گیا جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔امریکی انفلوئنسر اینڈریو برانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پرشانت سری کمار کو کینیڈا پر حملہ کرنے والا ایک اور بھارتی درانداز قرار دیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی