i بین اقوامی

قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی مذاکرات دوبارہ شروعتازترین

February 26, 2025

قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے، پوری دنیا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کرہ ارض پر زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے متحد ہو جائے، اور فنڈنگ کی لڑائی پر قابو پالے، جس کی وجہ سے گزشتہ سال ہونے والا ایک عالمی سطح کا اجلاس انتشار کا شکار ہوگیا تھا۔ غیرملکی خبررساںادارے کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندروں کے تحفظ کے وعدے سمیت فطرت سے متعلق تاریخی معاہدے کے 2 سال بعد بھی ممالک تباہی کو روکنے کے لیے درکار رقم پر تگ و دو سے دوچار ہیں، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے لاکھوں انسانوں کو خطرہ لاحق ہے۔رواں ہفتے روم میں اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (یو این ایف اے او) کے صدر دفتر میں ہونے والے مذاکرات کاروں کے اجلاس میں امیر اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اس تعطل کو حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا فطرت کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص فنڈ تشکیل دیا جائے یا نہیں؟۔اس پر اختلافات کی وجہ سے نومبر میں کولمبیا کے شہر کیلی میں اقوام متحدہ کے کوپ 16 مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری دہنے کے بعد بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئے تھے۔

روم میں مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بہت سے ترقی پذیر ممالک نے اجلاس پر زور دیا کہ وہ فنڈز جاری کریں، امیر ممالک 2025 تک غریب ممالک کو سالانہ 20 ارب ڈالر فراہم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔پاناما کے نمائندے نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ 2030 کے بعد مجموعی طور پر مالی اعانت حیاتیاتی تنوع کے بحران کی فوری ضرورت کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ماحولیاتی نظام، معیشت اور انسانیت کی بقا کا معاملہ ہے، ہم موسمیاتی فنانس کی ناکامیوں کو دہرا نہیں سکتے، سی او پی (کوپ) 16.2 کو الفاظ سے زیادہ فراہم کرنا ہوگا، اسے فنڈز فراہم کرنے ہوں گے، دنیا کا وقت ختم ہو چکا ہے۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مختلف ممالک کو تجارتی تنا اور قرضوں کے خدشات سے لے کر یوکرین میں جنگ تک متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔اگرچہ واشنگٹن نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط نہیں کیے، لیکن نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ذریعے ترقیاتی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی