غزہ میں جنگ بندی سے ابتدائی ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک ایسے ہتھیار کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جس نے شہر کے کئی علاقوں کی شکل بدل کر رکھ دی۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے پرانے ایم 113 آرمڈ پرسنل کیریئرز کو بارودی مواد سے بھر کر بموں میں تبدیل کیا، جن میں ایک سے تین ٹن تک دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ان گاڑیوں کو غزہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں استعمال کیا گیا، جہاں اِن کے دھماکوں، فضائی حملوں اور بکتر بند بلڈوزروں نے مل کر وسیع پیمانے پر عمارتوں کو زمین بوس کر دیا۔جب اسرائیلی فوج غزہ شہر کے وسط کی جانب بڑھ رہی تھی تو تل الہوی اور صبرا جیسے محلوں میں یہ طاقتور ٹرک بم دھماکے کیے گئے۔ڈرون فوٹیج اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی گلیاں اور پورے بلاک مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔بعض مقامات پر مکینوں کو پہلے انتباہ دیا گیا اور لوگ علاقہ چھوڑ گئے
تاہم مقامی رہائشیوں اور غزہ حکام کے مطابق کئی واقعات میں لوگوں کو بروقت وارننگ نہیں ملی۔تل الہوی کے علاقے میں دولت اسٹریٹ پر واقع ہشام محمد بدوی کا پانچ منزلہ گھر اس کی ایک مثال ہے۔بدوی کے مطابق ان کا گھر جنگ کے آغاز میں ایک فضائی حملے سے جزوی طور پر متاثر ہوا تھا، لیکن 14 ستمبر کو ایک آرمڈ گاڑی میں ہونے والے دھماکے نے اسے مکمل طور پر مٹا دیا۔بدوی نے بتایا کہ وہ اس وقت چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے اور تقریبا پانچ منٹ کے وقفے سے کم از کم پانچ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔بدوی کے مطابق انہیں انخلا کی کوئی وارننگ نہیں ملی اور ان کے خاندان کے 41 افراد بمشکل جان بچا سکے۔آج یہ خاندان مختلف رشتہ داروں کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہے جبکہ بدوی خود اپنے تباہ شدہ گھر کے قریب ایک خیمے میں رہ رہے ہیں۔رائٹرز نے نومبر میں جب اس علاقے کا دورہ کیا تو ملبے کے درمیان کم از کم ایک تباہ شدہ آرمڈ گاڑی کی باقیات بکھری ہوئی تھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی