امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی حملے کا حکم دینے کا اختیار رکھتا ہوں، میرے دورصدارت میں چین تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کر یگا، امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک پر امریکی فوجی حملے یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔امریکی صدر نے بتایا کہ اگرچہ تائیوان کے مسئلے پر چین کے اپنے خیالات ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کے خیال میں تائیوان چین کا حصہ ہے تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی کریں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔
امریکا روس جوہری معاہدے سے متعلق بیان پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔یاد رہے کہ امریکا، روس کے درمیان نیو اسٹارٹ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو رہا ہے۔دوسری جانب ا مریکی سینیٹ نے وینزویلا میں صدر ٹرمپ کے مزید فوجی اقدامات کے خلاف قرارداد بحث کے لئے ر کرلی۔قرارداد کے حق میں 52 اور مخالفت میں 47 ووٹ آئے، ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے 5 ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ایک ری پبلکن سینیٹر نے ووٹ نہیں دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ری پبلکن ارکان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ری پبلکن ارکان سینیٹ کو دوبارہ کبھی منتخب نہیں ہونا چاہیے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کو اب وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس سے منظوری درکار ہوگی۔ قرارداد کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید فوجی اقدام کو روکنا ہے۔گزشتہ سال سینیٹ میں اسی نوعیت کی قراردادوں کو آگے بڑھانے کی 2 سابقہ کوششوں کو ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی نے روک دیا تھا۔یاد رہیکہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج کو دوبارہ وینزویلا بھیجنیکیلیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی