بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے مزید واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں آر ایس ایس سے منسوب انتہا پسند عناصر پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ریاست بہار اور راجستھان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے ملک میں اقلیتوں کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔دی ہندوستان گزٹ کے مطابق بہار میں مسلمان مزدور نرشید عالم کو انتہا پسند ہندوں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ الزام ہے کہ تشدد کے دوران ان سے زبردستی مذہبی نعرے لگوائے گئے۔سماجی کارکن ضیا الحق نے بتایا کہ نرشید عالم کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ادھر برطانوی میڈیا ادارے پلرز فائیو کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں ایک بزرگ مسلمان شہری کو ہندوتوا نظریے سے وابستہ افراد نے جھوٹے الزامات کے تحت مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔بھارتی صحافی وقار حسن کے مطابق متاثرہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر اسے بنگلہ دیشی قرار دیا گیا اور سڑک پر گھسیٹا گیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ واقعات کسی ذاتی جھگڑے کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم تشدد کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی