i بین اقوامی

امریکی حکام کی جانب سے ایپسٹین فائلز کے 52 لاکھ صفحات کی چھان بین ، چار مختلف دفاتر سے 400 وکلا تعیناتتازترین

January 01, 2026

عالمی شہرت یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ دستاویزات اب امریکی محکمہ انصاف کیلئے پہاڑ نما چیلنج ثابت ہو رہی ہیں۔برطانوی خبررساںادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی ایک دستاویز بتاتی ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف جسٹس کو ایپسٹین سے جڑے 52 لاکھ صفحات پر مشتمل فائلز کی چھان بین کرنی ہے، جس کیلئے چار مختلف دفاتر سے 400 وکلا کو تعینات کیا گیا ہے۔ یہ عمل جنوری کے پہلے تین ہفتوں( 5 سے 23 جنوری) تک چلے گا، اور کانگریس کی 19 دسمبر کی ڈیڈ لائن کو عبور کر جائے گا۔یہ فائلز، جو ایپسٹین کی جنسی استحصال، ٹریفکنگ اور دیگر جرائم کی تحقیقات سے تعلق رکھتی ہیں، اب شفافیت کے قانون کے تحت عوام کے سامنے آنے والی ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس قانون کی تعمیل کا حکم دے دیا ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ نے مہینوں تک انہیں سیل رکھنے کی کوشش کی۔یاد رہے کہ ایپسٹین اور ٹرمپ 1990 اور 2000 کی دہائی میں سماجی طور پر قریبی تھے، اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی دوستی 2000 میں ختم ہو گئی اور وہ ایپسٹین کے جرائم سے بے خبر تھے۔ایپسٹین 2008 میں فلوریڈا میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی فروخت کے جرم میں سزا پا چکے تھے

جبکہ ان موت 2019 میں نیویارک کی ایک میں جیل میں خودکشی سے ہوئی۔یو ایس ڈپارٹمنٹ آف جسٹس کی دستاویز بتاتی ہے کہ کرمنل ڈویژن، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن، ایف بی آئی اور مینہیٹن کے یو ایس اٹارنی آفس مل کر 400 وکلا تعینات کر رہے ہیں، یہ تعداد پہلے کے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔ہر وکیل کو روزانہ 3 سے 5 گھنٹے دینے ہوں گے، اور ایک دن میں تقریبا 1000 دستاویزات کی جانچ پڑتال کا ہدف ہے۔رضاکاروں کو ٹیلی ورک اور چھٹیوں کے بونس دیے جا رہے ہیں، جو اس کام کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔گزشتہ ہفتے ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے دس لاکھ اضافی دستاویزات کا بھی انکشاف کیا، جو اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ابتدائی طور پر جاری شدہ فائلز میں بھاری سنسرشپ ہے، جس سے ریپبلکنز سمیت کئی حلقے مایوس ہیں۔یہ عمل سیاسی تناظر میں بھی دلچسپ ہے۔2026 کے مڈ ٹرم الیکشنز سے پہلے یہ اسکینڈل ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ فائلز میں طاقتور شخصیات کے نام سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکسپر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وکلا رات دن کام کر رہے ہیں، مگر بہت زیادہ مواد کی وجہ سے چند ہفتے مزید لگیں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی