i بین اقوامی

امریکہ کو بھی پیوٹن پر یوکرین کے قاتلانہ حملے کے ثبوت نہیں ملے،ڈرون کارروائی کا ہدف پیوٹن نہیں بلکہ قریبی فوجی مقام تھا، امریکی انٹیلی جنس کا دعویتازترین

January 01, 2026

امریکی انٹیلی جنس حکام نے کہا ہے کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے حکام نے اپنی خفیہ رپورٹ میں بتایا کہ سی آئی اے کی تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ یوکرین نے پیوٹن یا ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین کا ہدف اسی علاقے میں موجود ایک فوجی مقام تھا جو پیوٹن کی رہائش گاہ کے قریب نہیں تھا۔ سی آئی اے نے اس معاملے پر عوامی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی الزام کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک آرٹیکل شیئر کیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ حملے کا دعوی مشکوک ہے اور روس امن کی راہ میں خود رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو انٹیلی جنس رپورٹ پر بریفنگ دی تھی۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر ناراض ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ممکن ہے ایسا حملہ ہوا ہی نہ ہو۔

ان کے مطابق صدر پوتن نے فون پر انہیں بتایا تھا کہ ڈرونز نے ان کی جھیل کنارے واقع رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔یوکرین نے پہلے بھی روس کے اندر کچھ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، مگر اس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس کا مقصد پوتن کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس اس طرح کے الزامات کو سیاسی دبا بڑھانے اور مذاکرات پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے۔روس کی وزارتِ دفاع نے دعوی کیا کہ اس نے 91 یوکرینی ڈرونز کو پیوٹن کی رہائش گاہ کے قریب مار گرایا، جبکہ ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں برف میں گرا ہوا ڈرون دکھایا گیا۔ یہ الزام ایسے وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے طویل ملاقات کی اور امن کوششوں پر بات کی۔روسی حکام نے کہا کہ مبینہ ڈرون واقعے کے بعد وہ مذاکرات میں سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں اور انہوں نے اوڈیسا کے علاقے پر مزید ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے روس پر تنقید کو حالیہ دنوں میں ماسکو کے خلاف ان کا ایک مضبوط پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی