i بین اقوامی

امریکہ کی خاموش مگر بڑی عسکری پیش قدمی، ایران کے قریب خفیہ بمبار طیاروں کی بڑی کھیپ تعینات کردی گئیتازترین

April 05, 2025

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خاموشی سے بحرِ ہند اور انڈو پیسیفک ریجن میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی تعیناتی کا آغاز کر دیا۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ، امریکی فوج نے چھ بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے ڈیگو گارشیا کے ہوائی اڈے پر تعینات کیے ہیں، جو امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ فوجی بیس ہے۔ یاد رہے، امریکہ کے پاس مجموعی طور پر صرف 20 بی-2 بمبار ہیں، جن میں سے 30 فیصد اب بحرِ ہند میں موجود ہیں۔امریکہ نے اس کے ساتھ ساتھ انڈو پیسیفک خطے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد بھی ایک سے بڑھا کر تین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یو ایس ایس کارل ونسن کو مشرق وسطی بھیجا جا رہا ہے، جبکہ یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین عرب سمندر سے کارروائیاں جاری رکھے گا، اور یو ایس ایس نیمٹز اور اس کا اسٹرائیک گروپ جنوبی چینی سمندر کی طرف روانہ کیا جائے گا۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق، امریکی وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ نے مزید اسکواڈرنز اور فضائی یونٹس کی تعیناتی کا بھی حکم دے دیا ہے تاکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے، تاہم ان اضافی اسکواڈرنز کی تفصیلات فی الحال فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ تعیناتی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریسیپروکل ٹیرف اقدامات اور اس کے اثرات پر توجہ مرکوز کیے بیٹھی ہے ۔ینٹاگون کا موقف ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں سیکیورٹی کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ پینٹاگون نے کسی مخصوص ملک یا تنظیم کا ذکر نہیں کیا، لیکن دفاعی ماہرین اس تعیناتی کو مشرق وسطی میں جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران اور یمن کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایران کے حمایت یافتہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں حوثیوں اور ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا، اگر آپ ہمارے بحری جہازوں پر حملے روک دیں، تو ہم بھی حملے روک دیں گے، ورنہ اصل تکلیف ابھی شروع نہیں ہوئی۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری معاہدے کی دوبارہ مذاکرات کے لیے دباو بڑھا رہی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ فوجی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔ 2018 میں ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی اور سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کی تھیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی