امریکہ میں جعلی شناخت کے ذریعے ایئرلائنز کو دھوکہ دینے اور سینکڑوں مفت فضائی سفر کرنے والا شحض گرفتار کرلیا گیا ۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ کینیڈا کے شہری ڈیلاس پوکورنک پر الزام ہے کہ انھوں نے پائلٹ اور فضائی میزبان کا روپ دھارا اور مبینہ طور پر چار سال تک سینکڑوں بار مفت فضائی سفر کیا۔استغاثہ کا الزام ہے کہ ٹورنٹو کے رہائشی 33 سالہ ڈیلاس پوکورنک نے ایسی شناختی دستاویزات جعلی طور پر تیار کیں جو صرف ملازمین کو دی جاتی ہیں اور پھر ان دستاویزات کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فضائی کمپنیوں کے جہازوں میں مفت سفر کیا۔ ایک موقع پر تو انھوں نے کاک پٹ میں بیٹھنے کی درخواست بھی کی۔پوکورنک کو پانامہ میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے گئے، جہاں اب وہ فراڈ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق پوکورنک کا طریقہ کار حیران کن حد تک لیونارڈیو ڈی کیپریو کی سنہ 2002 میں آنے والی فلم سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں ایک دلکش نو عمر لڑکا ایف بی آئی سے بچنے کے لئے پائلٹ کا روپ دھار کر دنیا بھر میں سفر کرتا ہے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ پوکورنک نے سنہ 2017 سے لے کر 2019 تک کینیڈا کی ایک فضائی کمپنی میں باضابطہ فضائی میزبان کے طور پر کام کیا تھا
لیکن مبینہ فراڈ کے وقت وہ کسی فضائی کمپنی کے ملازم نہیں تھے۔استغاثہ کا الزام ہے کہ ملازمت کے بعد کے برسوں میں پوکورنک نے جعلی بیج استعمال کرتے ہوئے تین امریکی فضائی کمپنیوں کو دھوکا دیا اور ایسی پروازوں پر سفر کیا جو صرف پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لیے مختص ہوتی ہیں۔عدالتی دستاویزات میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک موقع پر پوکورنک نے طیارے کے کاک پٹ میں جمپ سیٹ پر بیٹھنے کی بھی درخواست کی، یہ وہ جگہ ہے جو صرف ڈیوٹی سے فارغ پائلٹس کے لیے مختص ہوتی ہے، تاہم نہ تو پوکورنک پائلٹ تھے نہ ان کے پاس ایئر مین کا سرٹیفیکیٹ تھا۔لیکن کیا پوکورنک نے واقعی کسی پرواز میں پائلٹس کے ساتھ سفر کیا؟ یہ بات ابھی غیر واضح ہے۔فرد جرم میں امریکی فضائی کمپنیوں کے نام تو نہیں دیے گئے لیکن یہ شناخت ضرور فراہم کی گئی ہے کہ ان کمپنیوں کے صدر مقام امریکی شہروں ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ہیں۔محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ فرد جرم میں صرف جنوری سے اکتوبر 2024 تک کی مدت شامل ہے، لیکن استغاثہ چار سال تک پوکورنک کی مبینہ بدعنوانی سے واقف ہے۔ یہ عرصہ جنوری 2020 سے لے کر اکتوبر 2024 تک ہے۔محکمہ انصاف کے مطابق، اگر پوکورنک پر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں 20 سال تک قید اور 250,000 ڈالرز تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی