i بین اقوامی

ایران میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہرے، 45 افراد جاںبحق ، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطلتازترین

January 09, 2026

ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، 28 دسمبر سے جاری مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد جاںبحق ہوگئے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہرے 31صوبوں تک پھیل چکے ہیں جہاں دکاندار اور دیگر شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے اہم شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر پتھرا اور براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔رپورٹس کے مطابق پرتشدد احتجاج کو کنٹرول کرنے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ادھر ایران میں احتجاج کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ انٹرنیٹ بندش کی اصل وجہ کیا ہے تاہم ایرانی حکام ماضی میں بھی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ معطل کرتے رہے ہیں۔بی بی سی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے اور ان مظاہرے کو حالیہ برسوں میں ایرانی حکام کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہرے قرار دئیے جا رہے ہیں۔

تہران اور ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں ہونے والے ان مظاہروں میں شامل افراد کو سکیورٹی فورسز نے منتشر نہیں کیا۔ایران میں جاری مظاہروں کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کی بھی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق ایک مانیٹرنگ گروپ نے بھی کی ہے۔ویڈیوز میں مظاہرین کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے اور سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی واپسی کا مطالبہ کرتے سنا جا سکتا ہے۔ رضا پہلوی نے گذشتہ روز اپنے حامیوں سے سڑکوں پر آنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک سے مظاہرین کی مدد کی اپیل کی تھی۔یہ مظاہرے مسلسل 13 روز سے جاری ہیں، جن کی ابتدا ایرانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور مہنگائی کے بعد ہوئی۔ بی بی سی کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکا ہے۔ادھر امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک کم از کم 34 مظاہرین، جن میں پانچ بچے شامل ہیں، اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2270 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 45 مظاہرین، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔بی بی سی فارسی نے 22 افراد کی ہلاکت اور شناخت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایرانی حکام نے چھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک شہری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اصفہان میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگا دی گئی ہے۔بی بی سی کے کے مطابق یہ واقعہ ان عمارتوں میں سے ایک میں پیش آیا ہے جو بستان سعیدی بلیوارڈ پر واقع میٹل برج کے قریب موجود ہیں۔یہ واقعہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں مظاہرین مختلف شہروں میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سرکاری اہلکار فائرنگ کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بلند کرتے اور ایران کا سرکاری پرچم مختلف مقامات سے اتارتے نظر آئے۔ بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز سامنے آنے والی متعدد تصاویر میں پولیس کی بیرکوں اور گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے مناظر دیکھے گئے، جبکہ مختلف مظاہروں کے دوران بعض مساجد کو بھی نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔گیلان صوبے کے ساحلی شہر بندر انزلی سے نشر ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو سڑکوں پر موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شہر حالیہ دنوں میں احتجاجی تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔مقامی رہائشیوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے شہر میں ضروری اشیا جیسے تیل اور چاول کی شدید قلت ہے۔

ساتھ ہی سکیورٹی اہلکاروں نے احتجاجی مظاہروں میں شامل افراد کو منتشر کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔دوسری جانب مارکزی صوبے کے شہر شازند سے سامنے آنے والی تصاویر میں مظاہرین کو گورنر آفس کی عمارت کے سامنے جمع ہوتے اور نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ تاہم ایک گھنٹے بعد گورنر کمپانڈ کے اندر آگ کے شعلے بلند ہوتے نظر آئے۔یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔ادھر ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے پہلے ردعمل میں مظاہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی بندش، مظاہرین پر تشدد اور ان کی آواز کو دبانے پر شدید تنقید کی ہے۔پہلوی، جنھوں نے ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے اور حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی، نے ایکس پر ایک بیان میں لکھا ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایرانی حکومت نے مکمل طور پر ذرائع مواصلات بند کر دئیے ہیں، انٹرنیٹ منقطع کر دیا، لینڈ لائن فونز کو بند کر دیا اور ممکن ہے کہ سیٹلائٹ سگنلز کو بھی معطل کرنے کی کوشش کی جائے۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ایرانی حکومت کو جوابدہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پہلوی نے مغربی ممالک کے رہنمائو ں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی رہنما، ان کی طرح اپنی خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی حمایت میں کھل کر سامنے آئیں۔ میں دنیا کے تمام رہنمائو ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دستیاب تکنیکی، مالی اور سفارتی وسائل استعمال کریں تاکہ ایرانی عوام سے رابطہ بحال کیا جا سکے، ان کی آواز سنی جائے اور ان کی خواہشات کو دیکھا جا سکے۔ میرے بہادر ہم وطنوں کی آواز کو خاموش نہ ہونے دیں۔دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی صورت میں ایک بار پھر ایران کو سخت وارننگ دیدی۔امریکی صدر نے ایک انٹر ویو کے دوران متنبہ کیا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا، جیسا کہ وہ عموما کرتے ہیں، تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔انٹرویو کے دوران جب میزبان نے کہا کہ مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ بعض اموات بھگدڑ کے باعث بھی ہوئیں اور ضروری نہیں کہ یہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے لیکن ایران کو سختی سے خبردار کر دیا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے نام پیغام دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ' آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں، آپ بہادر لوگ ہیں،آپ کے ملک میں جو بھی ہورہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ادھربیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ دے وور نے ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے فارسی زبان میں ایکس پر بیان میں لکھا بہادر ایرانی برسوں کے جبر اور معاشی مشکلات کے بعد آزادی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ ہماری مکمل حمایت کے مستحق ہیں۔ ان کی آواز کو تشدد کے ذریعے دبانا ناقابلِ قبول ہے۔امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایرانی عوام کے مظاہروں کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرے۔پومپیو نے مزید کہا کہ ایران کی پولیس فورسز کو ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں یا عوام کا۔انھوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی مختلف شہروں میں احتجاج کی وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ شاید وہ موقع اور لمحہ ہے جس کا ایرانی عوام انتظار کر رہے تھے بالکل ویسا ہی جیسا وینیزویلا کی عوام۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی