i بین اقوامی

ایران میں احتجاج 250 مقامات تک پھیل گیا، 35 افراد جاںبحق،1200 سے زائد گرفتا ر،مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیںتازترین

January 06, 2026

ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے 31 میں سے 27 صوبوں کے 250 سے زائد مقامات تک پھیل گئے ، جس کے باعث مجموعی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کی رپورٹ کے مطابق ایران میں 9روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 35 تک پہنچ گئی ہے۔ادھر نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے پیر کی شب رپورٹ کیا کہ مظاہروں کے دوران تقریبا 250 پولیس اہلکار اور رضاکار بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری ان مظاہروں کے دوران اب تک 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ایچ آر اے این اے کے مطابق ان مظاہروں میں جامعات کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں اور مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے الگ الگ احتجاجی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔احتجاج کا بنیادی سبب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کو بتایا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے لیے گزارا مشکل بنا دیا ہے اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔صورتحال کے پیش نظر ایرانی حکومت نے عوامی دبا ئوکم کرنے کیلئے ایک مالی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئندہ چار ماہ تک عوام کو سات ڈالر ماہانہ الائو نس دیا جائے گا تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فوری ریلیف کے طور پر کیا جا رہا ہے، جبکہ معاشی مسائل کے حل کے لیے دیگر اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے بھی اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غیر ملکی ایجنٹوں کی جانب سے کسی بھی مبینہ سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ان کے مطابق حکومت ایک طرف عوام کے مسائل سننے اور حل کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ دوسری جانب امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ہلاکتوں میں اضافے کے ساتھ امریکی مداخلت کے امکانات بھی زیر بحث آ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے پرامن مظاہرین کو پرتشدد طریقے سے قتل کیا تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا۔دوسری جانب ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔خبر رساں ادارے میزان کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئیاٹارنی جنرل اور تمام صوبوں کے پراسیکیوٹرز کو قانون کے مطابق اور سختی کے ساتھ شرپسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس نے ملک میں حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران احتجاج کرنے والے شہریوں اور تخریب کار عناصر کے درمیان واضح فرق کا قائل ہے۔ایرانی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عوام و قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو قانون کے مطابق فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی