اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایران میں حالیہ ملک گیر مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ ایران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ حکومت پر لازم ہے کہ انسانی حقوق اور انسانیت کا احترام قائم رکھیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مای ساتو اور تین دیگر ماہرین، جو ماورائے عدالت اور سزائے موت اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے امور پر کام کرتے ہیں، نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ ریچارد بینٹ نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریاں بشمول بچوں کی گرفتاری اور طبی مراکز پر حملے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بے دریغ طاقت کا استعمال صرف اسی وقت جائز ہے جب یہ آخری راستہ ہو اور اس وقت بھی اسے قانونی اصولوں، ضرورت، تناسب اور احتیاط کے مطابق ہونا چاہیے۔مای ساتو نے خبردار کیا کہ خطرناک سیاسی زبان، جس میں پرامن مظاہرین کو دہشت گرد، فسادی یا مزدور کہا جاتا ہے دراصل پرتشدد کریک ڈائون کو جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی