i بین اقوامی

ایران احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب، 24 گھنٹوں میں بے امنی کاکوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، سرکاری میڈیاتازترین

January 15, 2026

ایرانی حکومت احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی،ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 24 گھنٹوں میں ایران کے کسی شہر سے بے امنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ،ایران نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دیں،ایرانی میڈیا نے جلائو گھیرائوا میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری کردیں۔۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ ملک میں امن و سکون قائم ہے اور صورتحال مکمل قابو میں ہے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔ایرانی وزیرخارجہ نے دعوی کیا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کو ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ سفارتکاری اچھا راستہ ہے مگر ہمارا امریکا کے ساتھ اچھا تجربہ نہیں، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہتر ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران میں معاشی مشکلات کے خلاف دس دن تک پرامن احتجاج جاری رہا جس کے بعد تین دن تک تشدد ہوا جو ان کے بقول اسرائیل کی جانب سے منظم کیا گیا۔ایرانی وزیرخارجہ نے دعوی کیا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعوی کیا کہ اب صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور ملک میں امن بحال ہو چکا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے کہا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ یہ مکمل خانہ جنگی تھی۔ایرانی وزیر امین حسین رحیمی نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 8 سے 10 جنوری کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کو مجرم قرار دیا۔امین حسین رحیمی نے کہا کہ یہ تمام افراد اس وقت موقع پر موجود تھے۔ گرفتار افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل، امریکا اور بادشاہت کے حامیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

ادھرایرانی میڈیا نے جلا ئو گھیرا ئو میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری کردیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق فسادیوں کو ایران میں تیل تنصیبات، بجلی گھر پر حملوں کا بھی ٹاسک دیا گیا تھا جب کہ موساد پراکسیز کی ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکار مانیٹرنگ کررہے تھے۔دوسری جانب ایران میں چھاپوں کے دوران پرتشدد واقعات میں ملوث مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کے پاس سے پیٹرول اور دستی بم برآمد کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا۔رپورٹس کے مطابق ایران میں احتجاج کا سلسلہ رکنے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، انٹرنیشنل کالز بحال کردی گئیں تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔ اس دوران ایران نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کے بعد کھول دی۔ایران نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کیلئے بند کردی تھی اور صرف بین الااقوامی پروازوں کو اجازت کے ساتھ فضائی حدود استعمال کرنے کی ایڈوائزی جاری کی تھی۔تاہم اب غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ ایران نے فضائی حدود 5 گھنٹے بند رکھنے کے بعد اب فضائی حدود کو کھول دیا ۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب فضائی حدود کو بند کیا گیا تھا جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔دوسری جانب جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو 19 جنوری تک بند رہیں گی۔جرمنی نے اپنے طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ علاوہ ازیں امریکا پہلے ہی اپنی کمرشل پروازوں کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک چکا ہے۔ ایران میں سکیورٹی صورتحال کے سبب امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایت کردی۔اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریبا 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں سے اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ بیان میں شہریوں کو ہدایت کی گئی تو سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایران سے انخلا کی کوشش کریں۔

پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فورا ایران سے انخلا یقینی بنائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو ملک سے باہر نکال لیا جبکہ ایران سے برطانوی سفیر کو بھی واپس بلا لیا گیا۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال تیزی سے خراب ہوسکتی ہے جس سے سفارتی عملے کو خطرات لاحق ہیں، اپنے شہریوں کو بھی ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔برطانوی حکام نے کہا کہ ایران میں برطانوی شہریوں کے لیے مدد انتہائی محدود ہے، کسی ہنگامی صورت حال میں قونصلر مدد بھی ممکن نہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ پہلے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا غیرضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دے چکا ہے۔دھر تہران میں بھارتی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا کہہ دیا، بیان میں کہا گیا کہ ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دستیاب نقل و حمل کے ذریعے ایران چھوڑ دیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی