روس نے بحر اوقیانوس میں اپنے تیل بردار بحری جہاز کو ممکنہ امریکی حملے سے بچانے کے لئے اپنی بحریہ کو احکامات جاری کر دئیے اور اس کی جانب اپنی کشتیاں روانہ کر دی ہیں۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن اس جہاز کو نقصان پہنچانے یا ڈبونے کی بجائے اسے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔یہ بحری جہاز جو اس وقت خالی ہے ماضی میں وینزویلا سے خام تیل کی رسد میں اہم کرداد ادا کرتا رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وینزویلا میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تیل بردار بحری جہازوں پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ ان کی ناکابندی کیے جانے کا حکم بھی دیا تھا۔ جسے وینزویلا کی حکومت کی جانب سے چوری اور نا قبلِ قبول اقدام قرار دیا تھا۔وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا کہ وینزویلا کی حکومت جہازوں کے ذریعے امریکہ میں منشیات سمگل کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی کوسٹ گارڈ نے کیریبین میں بیلا ون نامی جہاز کو روکنے کی کوشش کی تھی، جب یہ وینزویلا کی طرف جا رہا تھا۔ اس پر امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی ترسیل کا الزام تھا۔ بعد ازاں جہاز نے اچانک راستہ اور نام بدل کر مارینیرا رکھ لیا اور مبینہ طور پر گویانا کے پرچم سے روسی پرچم میں منتقل ہو گیا۔یورپ کی جانب اس کی پیش قدمی کے ساتھ ہی تقریبا 10 امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی پہنچے ہیں۔ روس نے بحری جہاز کے گرد صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔امریکی حکام نے بتایا کہ واشنگٹن اس جہاز کو نقصان پہنچانے یا ڈبونے کی بجائے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔ قبل ازیں امریکی فوج کی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ پابندی شدہ جہازوں اور عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بحریہ متحرک اور تیار ہیں۔ جب بھی حکم آئے گا ہم اس پر عملدرآمد کے لیے پہنچ جائیں گے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی