برطانیہ اور فرانس نے یوکرین میں ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں اپنی افواج تعینات کرنے پر اتفاق کرلیا۔اس حوالے سے یوکرین کے صدر زیلنسکی، فرانس کے صدر میکرون اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے یوکرین کے دفاع، تعمیرِ نو اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے کثیر القومی فورس کی تعیناتی سے متعلق ایک اعلامیے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق یہ مشترکہ اعلامیہ پیرس میں منعقد ہونے والے کوالیشن آف دی ولنگ سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیا گیا ۔مشترکا اعلامیے کے مطابق روس یوکرین امن معاہدے کی صورت میں یوکرین کے لیے ایک کثیر الملکی فورس تشکیل دی جائے گی جو سکیورٹی ضمانتوں کو مضبوط بنائے گی۔ صدر زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرینی وفد نے مستقبل کی سیکیورٹی ضمانتوں پر امریکی نمائندوں سے مزید مذاکرات کیلئے ایک روز پیرس میں قیام بڑھا دیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ دستاویزات کی تیاری پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بات چیت میں سب سے بڑا حل طلب معاملہ علاقائی امور سے متعلق ہے۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کچھ نکات پر ٹیمیں اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکیں تو انہیں سربراہان مملکت کی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کرے گی۔زیلنسکی نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے پر دستخط مستقبل قریب میں ہو جائیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں ایسی قانونی ذمہ داریوں پر مبنی ہونی چاہئیں جن کی منظوری امریکی کانگریس دے۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جنگ بندی کے بعد امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نگرانی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، اور امریکہ اس حوالے سے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ فرانس، برطانیہ اور یوکرین کے عسکری حکام نے فورس کی تعیناتی سے متعلق تعداد اور مثر کارروائی کے لیے درکار مخصوص ہتھیاروں پر تفصیلی کام کیا ہے۔اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 35 ممالک نے شرکت کی، جو روس کے ساتھ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں فوجی دستے تعینات کرنے پر آمادگی رکھتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی وفد بھی موجود تھا، جس میں خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔اجلاس میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا، جو اس سے قبل کیف میں ہونے والے قومی سلامتی کے مشیروں کے تیاری اجلاس کا تسلسل تھا۔برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس فورس کی تعیناتی سے یوکرینی مسلح افواج کو اپنی طاقت بحال کرنے اور دفاعی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ادھر امریکی حکام نے بھی معاہدے کو مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کثیرالملکی فورس کی تعیناتی سے روس کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم اس سے قبل بھی امن معاہدے کے بعد یوکرین میں برطانوی افواج کی تعیناتی کا عندیہ دے چکے ہیں تاہم اس نئے معاہدے کے بعد برطانوی اور فرانسیسی افواج کی یوکرین میں کارروائی کے لیے باقاعدہ قانونی فریم ورک فراہم کر دیا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی