حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے زرعی شعبے کی شرح نمو 3.6 فیصد مقرر کر دی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے زرعی قرضوں میں اضافہ، زرعی مشینری کے فروغ، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال اور مویشیوں کے شعبے میں اصلاحات پر توجہ دی جائے گی تاکہ ملک کے اہم ترین معاشی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔وزارتِ خزانہ کی جون 2026 کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و پیش گوئی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی شعبے نے 2.9 فیصد ترقی کی۔ حکومت کو توقع ہے کہ نئے مالی سال میں ہدفی پالیسی اقدامات اور زرعی ضروریات کی بہتر فراہمی کے باعث زرعی شعبے کے مختلف ذیلی شعبوں کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں مویشیوں کا شعبہ 3.9 فیصد شرح نمو کے ساتھ سب سے بہتر کارکردگی دکھانے کی توقع ہے جبکہ دیگر فصلوں کی شرح نمو 3.5 فیصد، اہم فصلوں کی 2.9 فیصد، ماہی گیری کی 1.7 فیصد اور کپاس کی جننگ کی 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اہداف زرعی پیداوار بڑھانے اور دیہی آمدنی میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی بدولت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی حکمت عملی کے تحت معیاری زرعی بیج، کھاد
اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی بہتر بنائی جائے گی، زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائی جائے گی، زرعی تحقیق اور توسیعی خدمات کو مضبوط کیا جائے گا، مویشیوں کے شعبے میں اصلاحات نافذ کی جائیں گی، آبی زراعت کو فروغ دیا جائے گا اور کسانوں کو مالی سہولتوں تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔ ان اقدامات سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں شعبے کی استعداد بہتر ہونے کی توقع ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جاری خریف 2026 سیزن کے لیے زرعی ضروریات کی دستیابی میں بہتری آئی ہے جس سے فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے سازگار حالات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زرعی مداخل کی بہتر فراہمی سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا اور شعبے کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل عرصے کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی 18.9 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ہزار 458 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 2 ہزار 67 ارب روپے تھا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس اضافے سے کسانوں کو بیج، کھاد، زرعی مشینری اور دیگر پیداواری ضروریات کے لیے ادارہ جاتی مالی معاونت تک بہتر رسائی حاصل ہوئی۔رپورٹ کے مطابق زرعی مشینری کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مئی عرصے کے دوران زرعی مشینری اور آلات کی درآمدات 24.8 فیصد بڑھ کر 12 کروڑ 38 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ درآمدات 9 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تھیں۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ جدید زرعی مشینری کے بڑھتے استعمال سے پیداوار کی لاگت کم ہوگی، کارکردگی بہتر ہوگی اور مجموعی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں موجودہ خریف سیزن کے دوران کھاد کے استعمال کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اپریل اور مئی 2026 میں یوریا کھاد کی کھپت 8 لاکھ 82 ہزار ٹن رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 31.9 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم ڈی اے پی کھاد کی کھپت 24.3 فیصد کمی کے ساتھ ایک لاکھ 46 ہزار ٹن رہی جس کی بنیادی وجہ اس کھاد کی بلند قیمتیں قرار دی گئی ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافہ ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے، برآمدات بڑھانے اور دیہی آبادی کے روزگار و آمدنی کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، زرعی قرضوں اور مویشیوں کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری سے زرعی شعبہ مزید مضبوط ہوگا اور ملکی معاشی ترقی میں بڑا کردار ادا کرے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت مالی سال 2025-26 میں حاصل ہونے والی بحالی کو بنیاد بنا کر فصلوں، مویشیوں اور ماہی گیری کے شعبوں کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ بہتر حکومتی معاونت، زرعی ضروریات کی بروقت فراہمی اور مالی وسائل تک وسیع رسائی کے ذریعے مالی سال 2026-27 میں زرعی شعبے سے قومی معیشت میں مزید نمایاں کردار کی توقع کی جا رہی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک