i آئی این پی ویلتھ پی کے

سماجی تحفظ پر اخراجات میں اضافہ، بلاسود قرضوں کی فراہمی 125 ارب روپے سے تجاوز کر گئی،ویلتھ پاکستانتازترین

July 09, 2026

حکومت نے مالی سال 2025-26 کے دوران کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی معاونت بڑھاتے ہوئے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا جبکہ بلاسود قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا جس کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا اور غربت میں کمی لانا ہے۔وزارتِ خزانہ کی جون 2026 کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و پیش گوئی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران حکومت کی جامع ترقی کی حکمت عملی پر عملدرآمد جاری رہا۔ اس دوران سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے فنڈز میں اضافہ، بلاسود مالی سہولتوں تک رسائی میں توسیع اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کی حوصلہ افزائی کی گئی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ نے اپنی 24 شراکت دار تنظیموں کے ذریعے مئی 2026 میں 6 ہزار 935 بلاسود قرضے جاری کیے جن کی مجموعی مالیت 49 کروڑ 30 لاکھ روپے رہی۔ ان قرضوں کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے یا انہیں وسعت دینے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور گھریلو آمدنی میں اضافے میں مدد فراہم کرنا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق بلاسود قرضوں کا پروگرام گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں طور پر وسعت اختیار کر چکا ہے۔ سال 2019 سے اب تک مجموعی طور پر 125 ارب 70 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جو محروم طبقات کو شریعت کے مطابق مالی سہولتیں فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بھی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل عرصے کے دوران اس پروگرام پر 518 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25.9 فیصد زیادہ ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اضافہ کمزور اور مستحق خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک روزگار بھی پاکستانی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی آمدنی میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ مئی 2026 کے دوران 34 ہزار 946 پاکستانی کارکنوں کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹر کیا گیاجس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں ترسیلاتِ زر بھی مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی معاشی ترقی حکومت کی اقتصادی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ مجموعی معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ مالی شمولیت کے فروغ، کمزور طبقات کی معاونت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ معاشی بحالی کے ثمرات معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مضبوط سماجی تحفظ اور آسان مالی سہولتوں تک رسائی غربت میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معاشی دباو کے مقابلے میں خاندانوں کی استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ اقدامات پائیدار اور جامع معاشی ترقی کے لیے جاری وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق سماجی تحفظ، غربت کے خاتمے اور مالی شمولیت میں مسلسل سرمایہ کاری انسانی ترقی کو فروغ دینے اور طویل مدتی معاشی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہدفی مالی معاونت میں مزید توسیع سے جامع معاشی ترقی کو تقویت ملے گی اور پاکستان کے وسیع تر ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک