وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک فیز ٹو کے تحت بلوچستان کو مستقبل میں علاقائی رابطہ کاری، تجارت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنانے کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کا مقصد صوبے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ (جون 2026) کے مطابق حکومت نے بلوچستان انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 کے دوران صوبے کو علاقائی معاشی انضمام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر پیش کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کا اسٹریٹجک محل وقوع اسے پاکستان کے علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کا مرکزی حصہ بناتا ہے۔ لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی، معدنیات، ماہی گیری، زراعت اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ایسے شعبے ہیں جہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔دستاویز کے مطابق حکومت کا مقف ہے کہ سی پیک فیز ٹوکے تحت جاری سرمایہ کاری بلوچستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بنانے کی بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ رپورٹ میں گوادر کو اس تبدیلی کا مرکزی محرک قرار دیا گیا ہے، جہاں بندرگاہ کو ملک کے دیگر حصوں اور ہمسایہ خطوں سے ملانے کے لیے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 650 کلومیٹر طویل گوادر-کوئٹہ شاہراہ تقریبا تین برس میں مکمل کر لی گئی ہے، جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ، جو پہلے تقریبا دو دن تھا، نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے۔
اس شاہراہ سے تجارت کو فروغ، نقل و حمل میں بہتری اور صوبے بھر کی منڈیوں تک رسائی آسان ہونے کی توقع ہے۔وزارت منصوبہ بندی کے مطابق بہتر ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر سے لاجسٹکس کے اخراجات کم ہوں گے، سپلائی چین مضبوط ہوگی اور دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنے گی۔ اس کے نتیجے میں معدنیات، زراعت، ماہی گیری اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جبکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں طویل المدتی سماجی و معاشی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ تعلیم اور رابطہ کاری کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی وسائل کو بہتر بنانا اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ مقامی آبادی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔بلوچستان انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ان 43 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا جنہوں نے گوادر-کوئٹہ شاہراہ کی تعمیر کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان کی قربانیاں ایک ایسے اسٹریٹجک منصوبے کی تکمیل کا سبب بنیں جو علاقائی رابطہ کاری اور معاشی انضمام کو مزید مضبوط بنائے گا۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ سی پیک فیز ٹو کے تحت انفراسٹرکچر کی مسلسل ترقی اور بہتر رابطہ کاری بلوچستان کو مستقبل میں تجارت، لاجسٹکس اور پائیدار معاشی ترقی کا ایک بڑا علاقائی مرکز بنا دے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک