i آئی این پی ویلتھ پی کے

سی ڈی ڈبلیو پی نے 953 ارب روپے سے زائد کے تعلیم، توانائی اور آبی منصوبے منظور کر لیے،ویلتھ پاکستانتازترین

July 07, 2026

پاکستان کی ترقیاتی منصوبہ بندی سے متعلق اعلی فورم سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے تعلیم، توانائی، ماحولیات اور آبی وسائل کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے 953 ارب روپے سے زائد مالیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کرتے ہوئے پانچ منصوبوں کی منظوری دے دی، جبکہ سات منصوبوں کو حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ (جون 2026) کے مطابق مئی 2026 میں ہونے والے سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں مجموعی طور پر 12 ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 26 ارب 54 کروڑ روپے مالیت کے غیرملکی معاونت سے چلنے والے منصوبے کی ایکنک کو سفارش کی گئی۔ خیبرپختونخوا ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کے تحت اس منصوبے کا مقصد اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی قیادت کی تربیت میں توسیع اور صوبائی و ضلعی سطح پر ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔اعلی تعلیم کے شعبے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے 8 ارب 22 کروڑ روپے مالیت کے دو منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ 32 ارب 78 کروڑ روپے کے مزید دو منصوبوں کو ایکنک کے سپرد کیا۔ ان منصوبوں میں پاک۔برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے (فیز دوم)، یونیورسٹی آف نارووال کی توسیع، فل برائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام (فیز سوم) اور ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے بیرون ملک اسکالرشپس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ دینا اور تحقیق کے جدید مواقع فراہم کر کے پاکستان کے انسانی وسائل کو مضبوط بنانا ہے۔ماحولیاتی شعبے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے عالمی بینک کے گرانٹ سے مالی معاونت یافتہ 45 کروڑ 46 لاکھ روپے کے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد واپڈا میں ماحولیاتی اور سماجی خطرات کے انتظام کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے واپڈا کے پن بجلی منصوبوں میں ماحولیاتی و سماجی تحفظ کے معیارات کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی اور بیرونی مشیروں پر انحصار کم کرتے ہوئے اندرونی مہارت کو فروغ دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق سب سے بڑے منصوبے توانائی کے شعبے سے متعلق ہیں۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے تربیلا پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کے نظرثانی شدہ 316 ارب 41 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کو ایکنک کو بھجوا دیا۔ اس منصوبے سے تربیلا ڈیم کی موجودہ 4 ہزار 888 میگاواٹ پیداواری صلاحیت میں ایک ہزار 530 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا، جس سے ملک میں قابلِ تجدید بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔اسی طرح فورم نے گلگت بلتستان کے 13 اضلاع میں 100 میگاواٹ کے تقسیم شدہ شمسی فوٹو وولٹائیک پلانٹس کے قیام کے لیے 33 ارب 34 کروڑ روپے کے منصوبے کی بھی ایکنک کو سفارش کی، جس کا مقصد پسماندہ علاقوں میں صاف توانائی کی فراہمی کو فروغ دینا ہے۔آبی وسائل کے شعبے میں سی ڈی ڈبلیو پی نے 9 ارب 54 کروڑ روپے مالیت کے دو منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ 526 ارب 32 کروڑ روپے کے مزید دو منصوبے ایکنک کو بھجوا دیے۔

ان منصوبوں میں بلوچستان کا ماشخیل ڈیم، سندھ میں دریائے سندھ کے کنارے سیلابی حفاظتی پشتوں کی بہتری، دیامر بھاشا ڈیم کا نظرثانی شدہ منصوبہ اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسانہ رین واٹر ہارویسٹنگ ڈیم کی تعمیر شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، سیلاب سے تحفظ اور ملک کی طویل المدتی آبی و توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔منظور شدہ منصوبوں میں سندھ میں دریائے سندھ کے کنارے سیلاب سے تحفظ اور پشتوں کی بہتری کے 4 ارب 65 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کی مالی معاونت کا 98 فیصد حصہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی گرانٹ کی صورت میں فراہم کرے گی، جبکہ باقی 2 فیصد حکومت سندھ ادا کرے گی۔ اس منصوبے کا مقصد دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کے خطرات کو کم کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق منظور اور سفارش کردہ منصوبے اس حکومتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھی بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ منصوبے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ملک کو درپیش اہم ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک