i آئی این پی ویلتھ پی کے

ریگولیٹری اصلاحات کا ہدف: لائسنسنگ کو آسان اور کاروباری ماحول بہتر کرناہے: ویلتھ پاکستانتازترین

January 16, 2026

حکومت نے وزیرِاعظم کے معاشی حکمرانی اصلاحاتی پروگرام کے تحت ریگولیٹری اصلاحات کا ایک جامع پیکج پیش کیا ہے جس کا مقصد لائسنس کے طریقہ کار کو آسان بنانا، قوانین پر عملدرآمد کا بوجھ کم کرنا اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پیچیدہ قوانین، ایک جیسے تقاضوں کی تکرار اور منظوری کے طویل عمل نے ماضی میں نجی شعبے کی ترقی کو محدود کیا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت نے ریگولیٹری نظام کو سادہ بنانے کو ترجیح دی ہے تاکہ کاروبار چلانا، پھیلانا اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالنا آسان ہو سکے۔اصلاحاتی پروگرام کا ایک بنیادی حصہ وفاقی اداروں میں لائسنس اور منظوری کے طریقہ کار کو منظم بنانا ہے۔ دستاویز میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے درکار اجازت ناموں اور کلیئرنسز کی تعداد کم کرنے، دہرائے گئے مراحل ختم کرنے اور ریگولیٹری فریم ورک کو سادہ بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ غیر ضروری ریگولیٹری مراحل کم ہونے سے کاروبار کے اخراجات گھٹیں گے اور منظوری میں لگنے والا وقت بھی کم ہوگا۔اصلاحات میں ریگولیٹری اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی توجہ دی گئی ہے تاکہ قوانین کے نفاذ اور تشریح میں یکسانیت ہو۔

ماضی میں اختیارات کی تقسیم اور مختلف تقاضوں کی وجہ سے کاروباری طبقے کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا۔ نیا فریم ورک ریگولیٹری طریقوں میں ہم آہنگی، اختیارات کی وضاحت اور زیادہ قابلِ بھروسہ نظام قائم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اور اہم جزو رسک پر مبنی ریگولیشن متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت نگرانی کا دائرہ مختلف سرگرمیوں کے خطرے کی سطح کے مطابق ہوگا جس سے حکام زیادہ خطرے والے شعبوں پر توجہ دے سکیں گے جبکہ کم خطرے والے کاروباروں کے لیے قواعد آسان ہوں گے۔ اس سے ریگولیٹری مقاصد متاثر کیے بغیر انتظامی بوجھ کم ہونے کی توقع ہے۔دستاویز میں ریگولیٹری کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ لائسنسنگ، رجسٹریشن اور قوانین پر عملدرآمد کی رپورٹنگ کے لیے آن لائن پورٹلز کو وسعت دینے سے شفافیت بڑھے گی، کارروائی کا وقت کم ہوگا اور اختیاری فیصلوں کے امکانات گھٹیں گے۔ ڈیجیٹل ٹولز درخواستوں اور ریگولیٹری کارکردگی کی بہتر نگرانی میں بھی مدد دیں گے۔کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا اصلاحات کا مرکزی مقصد ہے۔

قوانین کو سادہ بنا کر اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کر کے حکومت ایک ایسا ماحول قائم کرنا چاہتی ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے سازگار اور قابلِ پیش گوئی ہو۔ ان اصلاحات سے معیشت کی دستاویزی شکل بڑھے گی، سرمایہ کاری آئے گی اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ ملے گا۔وزارتِ خزانہ کے مطابق ریگولیٹری اصلاحات کے موثر نفاذ کے لیے وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہوگا۔ اصلاحات کو کاروباری ضروریات اور بدلتی معاشی صورتحال کے مطابق رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور وقتا فوقتا جائزے کیے جائیں گے۔دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ ریگولیٹری اصلاحات مجموعی معاشی حکمرانی ایجنڈے کا ایک اہم ستون ہیں۔ قواعد کو آسان بنا کر، ریگولیٹری اداروں کو مضبوط کر کے اور عملدرآمد کے اخراجات کم کر کے حکومت ایک زیادہ مسابقتی، شفاف اور ترقی دوست کاروباری ماحول قائم کرنا چاہتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک