i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستانی سائنس دانوں نے سب سے لمبے دانے والی باسمتی چاول کی قسم تیار کر لی: ویلتھ پاکستانتازترین

January 12, 2026

رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو، لاہور کے سائنس دانوں نے باسمتی چاول کی ایک نئی قسم تیار کر لی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے لمبے دانے والی باسمتی قسم قرار دی جا رہی ہے۔آر آر آئی کے سینئر سائنس دان ڈاکٹر عثمان سلیم نے بتایاکہ سلطان باسمتی کے دانے کی لمبائی 9.5 ملی میٹر ہے جو اب تک پاکستان میں تیار کی گئی باسمتی اقسام میں سب سے زیادہ ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پکانے کے بعد اس چاول کا دانہ 20 ملی میٹر تک لمبا ہو جاتا ہے جو ایک نایاب خوبی ہے اور عالمی منڈیوں میں خاص کشش رکھتی ہے۔اس سے پہلے کائنات باسمتی کو پاکستان کی سب سے لمبی دانے والی قسم سمجھا جاتا تھا، جس کی دانے کی لمبائی 8.26 ملی میٹر تھی۔ تاہم سائنس دانوں کے مطابق کائنات باسمتی کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ خالص باسمتی نہیں بلکہ ایک باریک چاول کی قسم ہیجس میں باسمتی جیسی خوشبو پائی جاتی ہے۔ڈاکٹر عثمان سلیم نے بتایا کہ اس وقت وہ باسمتی کی مزید تین نئی لائنوں پر کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ اقسام آئندہ دو سے تین سال میں تیار ہو جائیں گی۔سلطان باسمتی کی فی ایکڑ پیداوار 70 من تک ہو سکتی ہے جبکہ موجودہ اقسام کی اوسط پیداوار تقریبا 45 من فی ایکڑ ہیجو اس نئی قسم کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

ان کے مطابق سلطان باسمتی میں خالص باسمتی کی مخصوص خوشبو پائی جاتی ہے، یہ آسانی سے پک جاتا ہے اور فصل پکنے تک ہری بھری رہتی ہے۔ اگرچہ یہ قدرے تاخیر سے کاشت کی جانے والی قسم ہے تاہم اس کی پختگی کا وقت دیگر اقسام کے لگ بھگ ہی ہوتا ہے۔رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو 1926 میں برطانوی حکومت نے ایک رائس فارم کے طور پر قائم کیا تھا جسے 1970 کی دہائی میں مکمل تحقیقی ادارے کا درجہ دیا گیا۔ اب تک یہ ادارہ باریک اور موٹے چاول کی 33 زیادہ پیداوار دینے والی اقسام تیار کر چکا ہے جن میں باسمتی 385، سپر باسمتی، سپر گولڈ اور چناب شامل ہیں۔چاول برآمد کرنے والوں نے نئی قسم کی تیاری کو خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اضافی لمبے دانے والا چاول پاکستان کے عالمی منڈی میں حصے کو بڑھانے میں مدد دے گا۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق سینئر نائب چیئرمین توفیق احمد خان نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں اضافی لمبے دانے والے چاول کی بہت زیادہ مانگ ہے لیکن ضروری ہے کہ کسان اس قسم کو جلدی اپنائیں تاکہ برآمد کے قابل وافر مقدار میں پیداوار حاصل ہو سکے۔انہوں نے تجویز دی کہ تحقیقی ادارہ اور حکومت مل کر اس نئی قسم کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قسم اتنی مضبوط ہو کہ ملنگ اور پکانے کے دوران دانہ ٹوٹنے سے محفوظ رہے۔

انہوں نے کہاکہ عموما اضافی لمبے دانے چھیلنے کے عمل میں ٹوٹ جاتے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔توفیق احمد خان نے کہا کہ پاکستانی چاول کی اقسام عالمی منڈی کی طلب سے ہم آہنگ ہیں، خاص طور پر باسمتی اور لمبے دانے والے نان باسمتی چاول کے شعبے میں۔ پاکستانی باسمتی اپنی خوشبو، دانے کی لمبائی اور پکانے کے معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، جبکہ نان باسمتی اقسام مناسب قیمت اور وسیع قبولیت کے باعث افریقی، مشرقِ وسطی اور ایشیائی منڈیوں میں مقبول ہیں۔تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت کو بھارتی چاول کے مقابلے میں مسابقت بڑھانے کے لیے چاول کے شعبے کو مراعات دینی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستانی چاول مختلف وجوہات کی بنا پر بھارتی چاول کے مقابلے میں تقریبا 200 امریکی ڈالر فی ٹن مہنگا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مراعات سے یہ فرق کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برآمدات کو صرف مشرقِ وسطی اور یورپی منڈیوں تک محدود رکھنے کے بجائے نئی منڈیوں کی تلاش ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اب افریقی منڈیوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور مختلف افریقی دارالحکومتوں میں روڈ شوز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ توفیق احمد خان نے کہا کہ نئی اضافی لمبے دانے اور خوشبودار چاول کی اقسام کی تیاری پاکستانی چاول کو عالمی منڈی میں مزید پرکشش اور مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک