پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق دو اہم منصوبے مکمل کر لیے ہیں جن کے ذریعے پانی کے معیار کی نگرانی کی استعداد میں نمایاں اضافہ اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کی درآمدات کے ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں سے ایک نے 20 کروڑ روپے کی لاگت کے مقابلے میں 1.9 ارب روپے سے زائد ریگولیٹری فیس بھی حاصل کی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری دونوں منصوبے 30 جون کو مکمل ہوئے، جن کے ذریعے لیبارٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا گیا، ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو وسعت دی گئی اور پاکستان کے بایو سیفٹی ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مضبوط کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق "پانی کے معیار کی نگرانی اور پائیدار ترقیاتی ہدف کی رپورٹنگ کے لیے استعداد کار میں اضافہ" منصوبہ مجموعی طور پر 1.289 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، جس میں 10 کروڑ 20 لاکھ روپے پی ایس ڈی پی کے تحت فراہم کیے گئے، جبکہ جنوبی کوریا کے ادارے کوئیکا نے 74 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کی تکنیکی معاونت فراہم کی۔منصوبے کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 45 واٹر کوالٹی لیبارٹریوں کو جدید بنایا گیا، 250 لیبارٹری اہلکاروں کو تربیت دی گئی، پانی کے معیار سے متعلق معلوماتی نظام اور موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی گئیں، قومی واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائی جین پالیسی پر کام شروع کیا گیا اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی رپورٹنگ کے لیے صوبائی ڈیٹا سسٹمز کو مضبوط بنایا گیا۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ محفوظ پینے کے پانی، آلودگی اور ماحولیاتی نگرانی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں لیبارٹریوں کی استعداد میں اضافہ پانی کے معیار کی جانچ اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔وزارت نے "پاکستان بایو سیفٹی کلیئرنگ ہاس برائے جی ایم او ریگولیشن" منصوبہ بھی مکمل کر لیا، جو 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے تحت کارٹاجینا پروٹوکول آن بایو سیفٹی پر مثر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔دستاویزات کے مطابق منصوبے کے دوران جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین کی درآمد کے لیے ایک ہزار 196 اور جی ایم کینولا کی درآمد کے لیے 184 اجازت نامے جاری کیے گئے، جبکہ اس عمل سے 1.9 ارب روپے سے زائد ریگولیٹری فیس وصول ہوئی۔اس منصوبے کے تحت 2024 میں پاکستان کے بایو سیفٹی قواعد و ضوابط اور رہنما اصولوں کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا، جبکہ مستقبل میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کی درآمدات کی نگرانی کے لیے مستقل نیشنل بایو سیفٹی اینڈ ریگولیٹری سینٹر کے قیام کی بنیاد بھی رکھی گئی۔
مالیاتی ریکارڈ کے مطابق پانی کے معیار کی نگرانی کے منصوبے پر جون 2025 تک 7 کروڑ 12 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں اس کے لیے نظرثانی شدہ 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 1 کروڑ 82 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔اسی طرح بایو سیفٹی منصوبے پر جون 2025 تک 11 کروڑ 12 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے 8 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 5 کروڑ 52 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔دستاویزات کے مطابق ان دونوں منصوبوں کی تکمیل سے عوامی صحت اور ماحولیاتی نظم و نسق کے شعبوں میں مستقل ادارہ جاتی استعداد پیدا ہوئی ہے۔ جدید لیبارٹریاں پینے کے پانی کے معیار کی بہتر نگرانی اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی رپورٹنگ میں معاون ثابت ہوں گی، جبکہ مضبوط بایو سیفٹی نظام جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں کی درآمدات پر موثر نگرانی اور پاکستان کے ریگولیٹری نظام کو بین الاقوامی بایو سیفٹی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک