ہائو س ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان میں شرحِ پیدائش میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مجموعی شرحِ پیدائش کم ہو کر فی عورت 3.6 بچے رہ گئی ہے جو پچھلے سروے میں 3.7 تھی۔ اس کمی کی وجہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک بہتر رسائی اور تولیدی صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی ہے۔سروے کے مطابق مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح بڑھ کر 38 فیصد ہو گئی ہے جو 2018-19 میں 34 فیصد تھی۔ یہ اضافہ شادی شدہ اور تولیدی عمر کی خواتین میں جدید اور روایتی خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے زیادہ استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ مانع حمل ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ملک بھر میں شرحِ پیدائش میں کمی لانے میں براہِ راست کردار ادا کیا ہے۔صوبائی اعداد و شمار سے خاندانی منصوبہ بندی کے استعمال میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح سب سے زیادہ 43 فیصد رہی جبکہ بلوچستان میں یہ شرح صرف 22 فیصد رہی جو مختلف علاقوں میں تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پسماندہ علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔سروے میں خواتین کی تولیدی خودمختاری میں بہتری بھی رپورٹ کی گئی ہے۔
15 سے 49 سال کی عمر کی ان خواتین کا تناسب، جو جنسی تعلقات، مانع حمل ذرائع کے استعمال اور تولیدی صحت سے متعلق فیصلے خود باخبر ہو کر کر سکتی ہیں، بڑھ کر 56 فیصد ہو گیا ہے جو پچھلے سروے میں 53 فیصد تھا۔ یہ بہتری خواتین میں آگاہی اور خود اختیاری میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔اسی دوران نوعمر ماں کی شرحِ پیدائش بھی کم ہو کر 15 سے 19 سال کی ہر 1,000 لڑکیوں میں 48 پیدائشیں رہ گئی ہیجو گزشتہ رپورٹنگ مدت میں 54 تھیں۔ یہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کو تولیدی صحت کی تعلیم اور سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہو رہی ہے، جس سے کم عمر خواتین کی صحت کے نتائج بہتر ہوئے ہیں۔ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت میں پیش رفت کا گہرا تعلق صحت کی سہولیات میں بہتری، تعلیم اور آگاہی مہمات سے ہے۔ زچہ و بچہ کی صحت کی خدمات میں توسیع، ہیلتھ ورکرز کی جانب سے زیادہ رسائی اور مانع حمل اشیا کی بہتر دستیابی نے مجموعی طور پر شرحِ پیدائش میں کمی کے رجحان کو تقویت دی ہے۔پاکستان کے قومی شماریاتی نظام کے تحت یہ سروے ڈیٹا پالیسی سازوں کے لیے نہایت اہم ہیجو آبادی سے متعلق حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں تولیدی صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک