پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کو برداشت کرنے والی اور زیادہ پیداوار دینے والی دالوں کی تیاری کی کوششوں کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جدید ترین اسپیڈ بریڈنگ سہولت کے آغاز سے نئی اقسام تیار کرنے میں لگنے والا وقت نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے،ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں دالوں کے تحقیقی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر شاہد ریاض ملک نے کہا کہ اس سہولت کی بدولت دالوں کی نئی اقسام تیار کرنے کا دورانیہ تقریبا آدھا رہ گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت نہایت اہم ہے جب موسمیاتی تبدیلی زراعت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ روایتی طور پر کسی نئی دال کی قسم تیار کرنے میں 12 سے 15 سال لگتے ہیں لیکن اسپیڈ بریڈنگ کے ذریعے اب ہم سات سے آٹھ سال میں نئی قسم متعارف کرا سکتے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ سہولت اہم دالوں پر کام کر رہی ہے جن میں چنا، مسور، مونگ، ماش اور دیگر پھلیاں شامل ہیں۔ یہ فصلیں غذائی تحفظ اور کسانوں کی آمدن کے لیے نہایت اہم ہیں۔ کنٹرولڈ ماحول میں، جہاں درجہ حرارت، نمی اور روشنی کو مکمل طور پر قابو میں رکھا جاتا ہے، سائنس دان سال میں ایک بار کے بجائے ہر دو ماہ بعد دالیں اگا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شاہد نے وضاحت کی کہ کھلے کھیت میں چنے کی فصل کو تقریبا چھ ماہ لگتے ہیں اور سال میں صرف ایک بار کاشت ممکن ہوتی ہے، لیکن ہماری تجربہ گاہوں میں ہم سال میں پانچ سے چھ نسلیں حاصل کر سکتے ہیں، جس سے تحقیق کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے۔اسپیڈ بریڈنگ کے طریقہ کار سے سائنس دان موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ضروری خصوصیات جیسے خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت، شدید گرمی سے بچا اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کو تیزی سے جانچ سکتے ہیں۔ بہتر پودوں کو تیزی سے ہائبرڈائزیشن کے مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ کسانوں تک بہتر اقسام جلد پہنچ سکیں۔ڈاکٹر شاہد نے کہاکہ یہ ٹیکنالوجی اس لیے ضروری ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ہماری زراعت کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ ہمیں ایسی دالیں جلد تیار کرنا ہوں گی جو ان دبا کا مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے اس سہولت کو پاکستان کا دالوں کے لیے پہلا مخصوص اسپیڈ بریڈنگ مرکز قرار دیا اور کہا کہ یہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مرکز ہے جبکہ دیگر ممالک میں ایسی سہولتیں عموما کئی فصلوں پر ایک ساتھ کام کرتی ہیں۔
ڈاکٹر شاہد کے مطابق اس سہولت کے ذریعے چنے کی 400 جدید بریڈنگ لائنز تیار کی جا چکی ہیں جنہیں اب کھیتوں میں آزمائش کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ انتخاب، سیڈ کونسلز کی منظوری اور قومی پیداواری آزمائشوں کے بعد، موسمیاتی تبدیلی کو برداشت کرنے والی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام چند سالوں میں کسانوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی ہم نے یہ اقسام کسانوں کو فراہم نہیں کیں۔ پہلے انہیں شیشے کے گھروں سے کھیتوں میں منتقل کیا جائے گا، پھر ضروری منظوری کے مراحل مکمل ہوں گے۔اسی دوران، مونگ اور ماش کی فصلوں کے لیے بھی بریڈنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر ان پر تحقیق محدود رہی ہے۔ ڈاکٹر شاہد کے مطابق چنے پر کام تقریبا مکمل ہو چکا ہے جبکہ مسور کی تیاری 70 سے 75 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔یہ پروگرام اب دالوں سے آگے بڑھ کر مونگ پھلی، باجرہ اور دیگر فصلوں تک پھیل چکا ہیجو کثیرالفصلی تحقیق کی جانب ایک وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔صلاحیت سازی بھی اس پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔
پاکستان کے قومی زرعی تحقیقی نظام سے وابستہ سائنس دانوں کو اسپیڈ بریڈنگ کی تربیت دی جا رہی ہے جبکہ یونیورسٹی کے طلبہ کو اس نئی سہولت میں اعلی تحقیق کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ اس پروگرام کو بین الاقوامی تعاون سے بھی فائدہ ہو رہا ہے، خاص طور پر سی پیک منصوبوں کے تحت آسٹریلیا اور چین کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے پاکستانی سائنس دان جدید زرعی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔یہ سہولت حکومتِ پاکستان کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فراہم کی گئی فنڈنگ سے قائم کی گئی اور 2025 میں ایل ای ڈی گرو لائٹس کی تنصیب کے بعد مکمل طور پر فعال ہو گئی۔ ڈاکٹر ملک کے مطابق مکمل فعالیت کے ایک سال کے اندر ٹیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک