i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان کی پراسیسڈ فوڈ انڈسٹری کے لیے آلو کی چار نئی اقسام تیار،ویلتھ پاکستانتازترین

August 06, 2026

آلو کے تحقیقاتی ادارے ساہیوال کے سائنس دانوں نے پاکستان میں پراسیسڈ آلو کی صنعت، خصوصا فرنچ فرائز اور آلو کے چپس کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے آلو کی چار نئی اقسام تیار کر لی ہیں جن میں خشک مادے (ڈرائی میٹر) کی مقدار زیادہ ہے۔آلوکے تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا آفتاب اقبال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں آلو کی چار نئی اقسام تیار کی ہیں جن میں خشک مادے کی مقدار 22 فیصد سے زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان نئی اقسام کے نام L 5-2، FD 74-30، FD 35-36 اور FD 74-50 ہیں۔ڈاکٹر رانا آفتاب اقبال نے کہا کہ 2009 میں قائم ہونے والے آلو تحقیقاتی ادارے نے اب تک کھانے کے لیے آلو کی 12 اقسام تیار کی ہیں جن میں پنجاب، صدف اور روبی ایسی اقسام ہیں جن میں خشک مادے کی مقدار 20 سے 22 فیصد کے درمیان ہے۔انہوں نے کہا کہ خشک مادے کی زیادہ مقدار پراسیسڈ آلو کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے نہایت اہم خصوصیت ہے کیونکہ کم خشک مادے والے آلو سے معیاری فرنچ فرائز اور چپس تیار نہیں کیے جا سکتے۔ان کے مطابق کم خشک مادے والی عام آلو کی اقسام کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات، جیسے چپس اور فرنچ فرائز، میں مثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر رانا آفتاب اقبال نے بتایا کہ پنجاب کے کسان روایتی طور پر زیادہ پیداوار دینے والی آلو کی اقسام کو ترجیح دیتے رہے ہیں جن میں خشک مادے کی مقدار نسبتا کم ہوتی ہے کیونکہ ان سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کسانوں نے زیادہ خشک مادے والی درآمدی اقسام، جن میں زیادہ تر ہالینڈ کی لیڈی روزیٹا، ہرمس، الورسٹون، وینس، سانتے اور ایسٹرکس شامل ہیں، کی کاشت بھی شروع کر دی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ زیادہ خشک مادے والی مزید مقامی اقسام تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں تیار کی گئی اقسام مقامی موسمی حالات، جیسے کہ ٹھنڈ، خشک سالی اور شدید گرمی، کے مطابق زیادہ موزوں ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشت کے طریقے، کھادوں کا استعمال، خصوصا پوٹاش کی قسم، اور فصل کی کٹائی کا وقت بھی آلو میں خشک مادے کی مقدار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ڈاکٹر احمد دین نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ پاکستان ہر سال تقریبا ایک کروڑ ٹن آلو پیدا کرتا ہے اور دنیا کے 10 بڑے آلو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود ملک پراسیسڈ آلو کی عالمی منڈی سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا۔انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ کم خشک مادے والی آلو کی اقسام کی کاشت ہے جو چپس اور فرنچ فرائز بنانے کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔ان کے مطابق 20 فیصد سے زیادہ خشک مادے والے آلو فرنچ فرائز کے لیے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ کم تیل جذب کرتے ہیں جس سے مصنوعات زیادہ خستہ اور بہتر معیار کی بنتی ہیں۔ڈاکٹر احمد دین نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں چپس اور فرنچ فرائز تیار کرنے والی صنعتیں زیادہ تر درآمدی اقسام، جیسے سانتے، لیڈی روزیٹا، کارڈینل اور ایسٹرکس پر انحصار کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر زیادہ خشک مادے والی مقامی اقسام کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے تو اضافی آلو کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں استعمال کیا جا سکے گا جس سے کسانوں اور پراسیسنگ انڈسٹری دونوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک