پاکستان اور بنگلہ دیش نے ترقیاتی منصوبہ بندی، عوامی پالیسی اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے پاکستان۔بنگلہ دیش علمی راہداری قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جسے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی جون 2026 کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق یہ اتفاق رائے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اور بنگلہ دیش کے وزیرِ منصوبہ بندی کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی وفد کے درمیان ہونے والے اجلاس میں ہوا۔ ملاقات میں ترقیاتی منصوبہ بندی، معاشی نظم و نسق اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنے کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان۔بنگلہ دیش علمی راہداری کے ذریعے قومی ترقیاتی منصوبہ بندی، معاشی انتظام، عوامی پالیسی اور ادارہ جاتی مضبوطی سے متعلق مہارت، تجربات اور کامیاب طریقہ کار کا باقاعدہ تبادلہ کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے منصوبہ بندی کے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ علمی راہداری تحقیق، پالیسی مکالمے اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گی جبکہ سرکاری حکام اور ماہرین کو ترقیاتی چیلنجز، اصلاحاتی اقدامات اور کامیاب تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا مثر پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گی۔
اس سے ادارہ جاتی روابط مضبوط ہوں گے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو تقویت ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی روابط اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنا کر پائیدار معاشی ترقی اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق ترقیاتی منصوبہ بندی میں قریبی تعاون سے دونوں ممالک کو سرکاری شعبے کی اصلاحات، منصوبوں پر مثر عمل درآمد اور طویل المدتی حکمتِ عملی سازی کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی معلومات کے تبادلے سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور قومی ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خطے کے ممالک کے ساتھ مکالمے، علم کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے علاقائی روابط مضبوط بنانے کی پاکستان کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
قریبی تعاون سے نئی پالیسیوں کی تشکیل، ترقیاتی اداروں کی استعداد میں اضافہ اور باہمی فائدہ مند معاشی شراکت داری کو فروغ ملے گا۔ دستاویز کے مطابق دونوں ممالک نے اپنی منصوبہ بندی کی وزارتوں کے درمیان مستقل رابطے برقرار رکھنے اور ترقیاتی پالیسی، معاشی منصوبہ بندی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ایسے روابط ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانے اور ترقیاتی پروگراموں پر مثر عمل درآمد میں معاون ثابت ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان۔بنگلہ دیش علمی راہداری دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرے گی جس کے ذریعے خیالات، مہارت اور تجربات کا تبادلہ، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ اور مشترکہ سیکھنے اور باہمی پالیسی سازی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک