i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستا ن میں گندم کی تیز رفتار پیداوار کے لیے جدید اسپیڈ بریڈنگ سہولت کا آغاز,ویلتھ پاکستانتازترین

January 12, 2026

پاکستان نے بہتر گندم کی اقسام کی تیاری کو تیز کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جدید ترین اسپیڈ بریڈنگ سہولت کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام سے تحقیق اور ترقی کے مراحل میں لگنے والا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا،نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں گندم پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر زاہد محمود نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئی سہولت سائنس دانوں کو روایتی طریقوں کے مقابلے میں تقریبا آدھے وقت میں گندم کی نئی اقسام تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ روایتی طور پر گندم کی ایک نئی قسم تیار کرنے میں 12 سے 15 سال لگتے ہیں کیونکہ کھیتوں میں آٹھ نسلیں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس کنٹرولڈ ماحول میں ہم صرف دو ماہ میں ایک نسل مکمل کر سکتے ہیں اور سات سے آٹھ سال میں نئی قسم تیار ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت پاکستان میں گندم کے لیے بنائی گئی پہلی مخصوص اسپیڈ بریڈنگ لیب ہے اور جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کی پہلی سہولت بھی ہے۔ خلائی سائنس کے تصورات سے متاثر یہ مرکز مکمل طور پر کنٹرولڈ ماحول فراہم کرتا ہے جو کھلے کھیتوں میں برسوں لگنے والے مراحل کی جگہ لے لیتا ہے۔ڈاکٹر زاہد نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ عام طور پر کھلے کھیتوں میں سات سے آٹھ نسلیں مکمل کرنے میں تقریبا آٹھ سال لگ جاتے ہیں جبکہ یہاں ہم یہی کام صرف ایک سے ڈیڑھ سال میں کر لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے عملی نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ 2022 میں آغاز کے بعد سے اس مرکز میں تقریبا 3,000 نئی گندم کی لائنیں تیار کی جا چکی ہیں جو عام حالات میں کئی سالوں میں ممکن ہوتا۔انہوں نے بتایاکہ یہ تمام لائنیں اس وقت کھیتوں میں جانچ کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ دو سال کی آزمائش کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والی لائنیں قومی آزمائشی مراحل میں شامل ہوں گی جس سے بہتر اقسام بہت کم وقت میں جاری کی جا سکیں گی۔ڈاکٹر زاہد نے مزید کہا کہ یہ سہولت تربیت اور صلاحیت سازی کے لیے بھی ایک علاقائی مرکز بن چکی ہے۔ خطے میں اسپیڈ بریڈنگ کا آغاز کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان نے اب تک ملک اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے 250 سے 300 سائنس دانوں اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو تربیت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا تعاون صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ہم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی قریبی اشتراک کیا ہے اور قازقستان میں پہلی اسپیڈ بریڈنگ سہولت کے قیام میں مدد فراہم کی ہے۔

ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی اصل میں 2018 میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں تیار کی گئی تھی جہاں انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران اس تصور سے آگاہی حاصل کی۔ بعد ازاں پاکستانی سائنس دانوں نے آسٹریلوی ماہرین کے تکنیکی تعاون سے اس نظام کو مقامی حالات کے مطابق ڈھال لیا۔انہوں نے کہاکہ یہ گندم کی تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم بہت کم وقت میں بہتر اقسام تیار کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام میں جدید آلات اور طریقے بھی شامل ہیں، جن میں مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور ملٹی اسپیکٹرل سینسرز شامل ہیں تاکہ فصلوں کی جانچ زیادہ درست اور تیز ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ جب بریڈنگ کا مواد جانچا جاتا ہے تو ہم ڈرونز اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جس سے تیزی اور درستگی کے ساتھ نتائج حاصل ہوتے ہیں اور ڈیٹا کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔یہ سہولت ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے تحقیق اور تربیت کا اہم مرکز بھی ہے جس سے پاکستان کی سائنسی اور انسانی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک