پاکستان میں روپے کی قدر کا استحکام اب عارضی انتظامی اقدامات کے بجائے مضبوط معاشی بنیادوں پر قائم ہے۔ بیرونی کھاتوں، مالیاتی نظم و ضبط اور توانائی کے شعبے میں بہتری نے روپے پر دبا کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب انسائٹ سکیورٹیز کی رپورٹ "شرح مبادلہ کے استحکام کا معمہ" میں کہا گیا ہے کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی موجودہ استحکام کی صورتحال 2015 سے 2017 کے دور سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر کے استعمال اور بیرونی قرضوں کے ذریعے روپے کو سہارا دیا جا رہا تھا حالانکہ معاشی عدم توازن مسلسل بڑھ رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2017 کے دوران درآمدات پر مبنی معاشی توسیع، بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور حقیقی مثر شرح مبادلہ کے زیادہ بلند ہونے کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا تھا۔ جب بیرونی مالی وسائل اس عدم توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے تو روپے کی قدر پر شدید دبا آیا اور اس کی قدر میں نمایاں کمی ہوئی۔اس کے برعکس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں شرح مبادلہ کا استحکام زیادہ مضبوط بیرونی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ملکی طلب میں اعتدال کے باعث درآمدات قابو میں رہی ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے نے جاری کھاتے کو متوازن رکھنے میں مدد دی ہے جس سے بینکوں کے درمیان امریکی ڈالر کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اب بیرونی مالی وسائل بڑھتے ہوئے جاری کھاتوں کے خسارے کو پورا کرنے کے بجائے زیادہ تر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جس سے زرِ مبادلہ کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی ہے۔رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کو بھی روپے کے استحکام کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
اندازے کے مطابق مالی سال 2026 میں بنیادی مالیاتی توازن مجموعی قومی پیداوار کا 2.5 فیصد سرپلس رہے گا جو مسلسل چوتھا سال ہوگا جب حکومت بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرے گی۔رپورٹ کے مطابق سخت مالیاتی نظم و ضبط نے مجموعی طلب اور درآمدات کی رفتار کو محدود رکھا جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ قابو میں رہا۔ اس کے برعکس 2015 سے 2017 کے دوران انفراسٹرکچر پر زیادہ اخراجات نے درآمدات میں اضافہ کیا تھا جس سے روپے پر دبا بڑھ گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ساختی تبدیلیوں نے بھی پاکستان کی بیرونی معاشی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے۔ شمسی، ہوائی، جوہری توانائی اور تھر کے کوئلے کے بڑھتے ہوئے استعمال سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوا ہے جبکہ قطر سے درآمد کی جانے والی مائع قدرتی گیس ایل این جی میں ایڈجسٹمنٹ اور مقامی گیس کے زیادہ استعمال سے مہنگی ایل این جی کی درآمدات میں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان اقدامات نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بھی تحفظ فراہم کیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مضبوط بیرونی معاشی صورتحال کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کردار بھی تبدیل ہوا ہے۔ اب مرکزی بینک روپے کی قدر کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر استعمال کرنے کے بجائے بینکوں کے درمیان ڈالر خریدنے والا خالص خریدار بن چکا ہے جس سے ایک طرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور دوسری جانب شرح مبادلہ بھی مستحکم رہی۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 سے مارچ 2026 تک اسٹیٹ بینک مسلسل بینکوں کے درمیان ڈالر کی خالص خریداری کرتا رہا۔انسائٹ سکیورٹیز کے مطابق متوازن بیرونی کھاتوں، مسلسل مالیاتی نظم و ضبط، توانائی کے زیادہ متنوع ذرائع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافے نے روپے کی قدر کے استحکام کے لیے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کی ہے جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال ایک دہائی پہلے کے حالات سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک