نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قومی شاہراہ این-45 پر واقع لواری ٹنل چکدرہ سیکشن پر اپ گریڈیشن اور مرمت کا زیادہ تر کام مکمل کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق این ایچ اے چکدرہ میں لواری ٹنل پر قومی شاہراہ این۔ 45 کے تحت باقاعدہ مرمتی کام انجام دے رہی ہے۔ اپ گریڈیشن اور دیکھ بھال کا یہ منصوبہ 2026 کے اوائل تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ سڑک کا حصہ کافی عرصے سے خستہ حال تھا جس کے باعث این ایچ اے کو کارروائی کرنا پڑی۔باقاعدہ مرمت کے اس منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ 140 سے 155 کلومیٹر تک جبکہ دوسرا حصہ 155 سے 193 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 1 ارب 44 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ دستاویز کے مطابق پہلے حصے پر اب تک 38 فیصد جبکہ دوسرے حصے پر 78 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔یہ ٹنل خیبر پختونخوا اور چترال کے درمیان بلا تعطل رابطہ فراہم کرتی ہے اور آمدورفت، تجارت اور سیاحت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھاری ٹریفک، سخت موسمی حالات اور قدرتی ٹوٹ پھوٹ کے باعث سڑک کئی مقامات پر شدید متاثر ہو چکی تھی جس کے بعد بروقت مرمت ناگزیر ہو گئی تھی۔
جاری مرمتی کاموں میں سڑک کی بحالی، اسفالٹ کی نئی تہہ بچھانا، نکاسی آب کے نظام کی بہتری، پہاڑی ڈھلوانوں کا تحفظ اور راستے میں موجود خراب ڈھانچوں کی مرمت شامل ہے۔این ایچ اے کے ایک سینئر افسر نے ویلتھ پاکستان کو بتایاکہ ان اقدامات کا مقصد سڑک کو زیادہ محفوظ بنانا، سفر کا وقت کم کرنا اور خاص طور پر مصروف سفری موسم اور خراب موسمی حالات میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے۔منصوبے سے وابستہ ایک افسر کے مطابق این ایچ اے کام کے معیار اور بروقت تکمیل پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ عملدرآمد کے دوران سامنے آنے والے کسی بھی تکنیکی مسئلے کے حل کے لیے باقاعدہ معائنے اور ٹھیکیداروں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔سڑک کی بہتر حالت چترال سے اور چترال تک زرعی پیداوار، تجارتی سامان اور ضروری اشیا کی ترسیل کو آسان بنائے گی جبکہ خوبصورت وادی تک محفوظ اور قابلِ اعتماد رسائی فراہم کر کے سیاحت کو بھی فروغ دے گی۔این ایچ اے کے مطابق ادارہ ملک بھر میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کی دیکھ بھال کے لیے پرعزم ہیاور دیگر اہم راستوں پر بھی اسی نوعیت کے مرمتی اور اپ گریڈیشن منصوبے جاری ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی علاقائی رابطے، معاشی استحکام اور عوامی تحفظ کے لیے ایک اہم ترجیح بنی ہوئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک