حکومت نے وزیرِاعظم کے معاشی حکمرانی اصلاحاتی پروگرام کے تحت سرکاری اداروں میں جوابدہی، شفافیت اور دیانت داری کو بہتر بنانے پر خصوصی زور دیا ہے۔ اس کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا، اختیارات کے غلط استعمال کو روکنا اور مجموعی طور پر حکمرانی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ایک سرکاری دستاویز کے مطابق اصلاحاتی فریم ورک میں کمزور احتسابی نظام اور محدود شفافیت کو موثرحکمرانی میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا ہے۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، معلومات کی فراہمی کے طریقوں کو بہتر کرنے اور سرکاری شعبے میں اخلاقی معیار کو مزید مضبوط کرنے کے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔اصلاحات کا ایک بنیادی ستون آڈٹ اور نگرانی کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ دستاویز میں سرکاری اخراجات کی موثر جانچ کے لیے اندرونی اور بیرونی آڈٹ نظام کی صلاحیت اور خودمختاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بہتر آڈٹ طریقہ کار سے نااہلی کی نشاندہی، سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی روک تھام اور قوانین و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔اصلاحات میں سرکاری اداروں کے اندرونی کنٹرول نظام کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس میں اختیارات کی واضح تقسیم، جوابدہی کے واضح طریقہ کار اور بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے مضبوط اندرونی نگرانی شامل ہے۔
اندرونی کنٹرول مضبوط بنا کر حکومت بدانتظامی کے امکانات کم کرنا اور سرکاری وسائل کو منظور شدہ مقاصد کے مطابق استعمال میں لانا چاہتی ہے۔شفافیت بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے۔ دستاویز میں حکومتی فیصلوں، اخراجات اور کارکردگی سے متعلق معلومات تک عوامی رسائی بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ معلومات کی فراہمی کے سخت تقاضے اور بہتر رپورٹنگ معیار سے کھلے پن میں اضافہ ہوگا اور حکومتی اقدامات پر عوامی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔اصلاحاتی فریم ورک میں سرکاری اداروں میں دیانت داری کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ اس میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینا، ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد اور بدعنوانی یا بدسلوکی سے نمٹنے کے نظام کو موثر بنانا شامل ہے۔ حکومت قوانین پر عملدرآمد کے نظام کو مضبوط بنانے اور سرکاری شعبے میں دیانت داری کی ثقافت کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کے علاوہ اصلاحات کا مقصد نگرانی کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے تاکہ کام کی غیر ضروری تکرار سے بچا جا سکے اور نگرانی زیادہ موثر ہو۔
آڈٹ اداروں، ریگولیٹری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ احتساب کو مضبوط کرے گا اور آڈٹ رپورٹس پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔وزارتِ خزانہ کے مطابق جوابدہی اور شفافیت کو مضبوط بنانا ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے اور موثر حکمرانی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ نگرانی کے نظام کو بہتر بنا کر اور اخلاقی طرزِ عمل کو فروغ دے کر اصلاحاتی ایجنڈا ایسی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے جو دیانت داری، کارکردگی اور پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کرے۔دستاویزمیں کہا گیا ہے کہ شفافیت اور جوابدہی سے مسلسل وابستگی ہی حکمرانی اصلاحات کی طویل مدتی کامیابی اور ایک قابلِ اعتماد سرکاری شعبہ قائم کرنے کی ضمانت ہوگی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک